
واشنگٹن،30مئی (ہ س)۔
اخبار فائنینشل ٹائمز نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قازقستان نے ایران کا یورینیم کا ذخیرہ حاصل کرنے کی پیشکش کی ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے فائنینشل ٹائمز کو بتایا کہ قازقستان نے ایران کا ہتھیار بنانے کے لیے درکار افزودگی کی سطح کے قریب افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حاصل کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے بشرطیکہ امریکہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ جائے۔
ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے اخبار کے ساتھ ایک انٹرویو ، جو جمعہ کو شائع ہوا، میں مزید کہا کہ وسطی ایشیائی ریاست نے اس ہفتے آستانہ میں اپنے صدر قاسم جومارت توکایف کی گروسی کے ساتھ ملاقات کے دوران اس ذخیرے کو اپنے پاس رکھنے کے خیال کو قبول کرنے کا اظہار کیا ہے۔ قازقستان کم افزودہ یورینیم کے ایک بینک کی میزبانی کرتا ہے جو بین الاقوامی نگرانی میں ہے تاکہ ایجنسی کے رکن ممالک میں پاور پلانٹس کے لیے ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو¿ کو روکا جا سکے۔ اس سٹوریج کی سہولت کا افتتاح 2017 میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون سے کیا گیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ممکنہ مفاہمت پر حتمی فیصلہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کے بارے میں ایران کے سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن کی باتوں پر بھروسہ نہیں کرے گا بلکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا فریم ورک فراہم کرنے کے لیے اقدامات چاہتا ہے۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکہ ابھی تک ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچا ہے لیکن دونوں فریق معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ جے ڈی وینس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے ساتھ فریم ورک معاہدے پر کب دستخط کریں گے یا آیا وہ دستخط کریں گے بھی یا نہیں۔ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی اجازت دینے، ایران کی بندرگاہوں کا امریکی محاصرہ ختم کرنے اور اس پر عائد بعض پابندیاں ہٹانے کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں لیکن اس معاہدے کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ ایک معاہدے تک پہنچنا دنیا کو توانائی کے بحران میں دھکیلنے والی جنگ کو ختم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا لیکن ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بنیادی تنازع پر آنے والے ہفتوں کے دوران ہونے والے مذاکرات میں ہی بحث کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan