
حیدرآباد ، 3 مئی (ہ س)۔ سنگارینی کالریزکمپنی لمیٹیڈ نے اپنے پرجوش راما گنڈم کول مائن پروجیکٹ کےلیے مرکزی وزارتِ ماحولیات ، جنگلات اورموسمیاتی تبدیلی سے منظوری حاصل کرلی ہے، جوریاست کے کان کنی کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ پروجیکٹ کی اہم خصوصیات کے مطابق اس جدید منصوبے کا ہدف دو اوپن کاسٹ اورتین زیرِزمین کانوں کے امتزاج سے مجموعی طور پر 314.98 ملین ٹن کوئلے کے ذخائرنکالنا ہے، جبکہ اس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 21 ملین ٹن ہوگی جو ایس سی سی ایل کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ منصوبہ آئندہ 25 برس تک راماگنڈم کے علاقے میں کان کنی کے عمل کو جاری رکھے گا،جس سے توانائی کی فراہمی اورصنعتی ترقی کوخاطرخواہ فروغ ملے گا۔ اتوار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، یہاں سے پیدا ہونے والا کوئلہ بنیادی طورپر این ٹی پی سی راما گنڈم اوردیگر صنعتوں کو ایندھن کی فراہمی کے معاہدوں کے تحت فراہم کیا جائے گا۔ اس پروجیکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پرانی زیرِزمین کانوں میں بچ جانے والے کوئلے کو ‘اوپن کاسٹ’ آپریشنز میں تبدیل کرکے استعمال میں لائے گا۔ اسی منصوبے کے تحت بند شدہ جی ڈی کے-10 انکلائین مائن اورجلد بند ہونے والی وکیل پلّی زیرِزمین کان کواوپن کاسٹ میں تبدیل کردیا جائے گا۔ ملحقہ پروجیکٹس کی حدود میں موجود کوئلے کے ذخائر کو بھی نکالا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ ریکوری ممکن ہو سکے۔ سنگارینی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو ماحول دوست طریقوں سے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں کھدائی والے علاقوں کو دوبارہ بھرنے پر توجہ دی جائے گی۔ حکام پرامید ہیں کہ یہ اقدام نہ صرف پرانی کانوں سے کم ہوتی ہوئی پیداوار کی تلافی کرے گا بلکہ خطے میں کان کنی کی سرگرمیوں کی زندگی کو بھی نمایاں طورپربڑھا دے گا۔توقع ہے کہ اگلے چند دنوں میں باقاعدہ دستاویزات موصول ہو جائیں گے، جس کے بعد پروجیکٹ پر عملی کام شروع کر دیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق