ہاردک اور سوریہ پر ہوں گی سب کی نظریں، ایم آئی کو اپنی پلے آف کی امیدوں کو زندہ رکھنے کے لیے جیت کی ضرورت
ممبئی،03مئی(ہ س )۔ ممبئی انڈینس کو اگرانڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے پلے آف میں اپنی امیدوں کو زندہ رکھنا ہے، تو ان کے کپتان ہاردک پانڈیا اور اہم بلے باز سوریہ کمار یادو کو پیر کو یہاں سب سے نچلے پائدان پر لکھنو¿ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) کے خ
ہاردک اور سوریہ پر ہوں گی سب کی نظریں، ایم آئی کو اپنی پلے آف کی امیدوں کو زندہ رکھنے کے لیے جیت کی ضرورت


ممبئی،03مئی(ہ س )۔

ممبئی انڈینس کو اگرانڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے پلے آف میں اپنی امیدوں کو زندہ رکھنا ہے، تو ان کے کپتان ہاردک پانڈیا اور اہم بلے باز سوریہ کمار یادو کو پیر کو یہاں سب سے نچلے پائدان پر لکھنو¿ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) کے خلاف اپنے میچ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پانڈیا (146 رنز اور چار وکٹ) اور سوریہ کمار (186) نے اب تک خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے ممبئی کو کافی نقصان پہنچا ہے، خاص طور پر سابق کپتان روہت شرما ہیمسٹرنگ کے تناو¿ کی وجہ سے کھیلنے سے قاصر ہیں۔ تاہم اب وہ صحت یاب ہونے کی راہ پر گامزن ہے۔ پانچ بار کی آئی پی ایل چمپئن ممبئی انڈینس نو میچوں میں صرف دو جیت کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں نویں نمبر پر ہے۔ آئی پی ایل پلے آف میں جگہ بنانے کی ان کی امیدیں ختم ہوگئیں۔

کوالیفائنگ کی اپنی امیدوں کو زندہ رکھنے کے لیے ممبئی کو اپنے باقی تمام میچ جیتنے ہوں گے اور دوسری ٹیموں کے لیے سازگار نتائج کی دعا بھی کرنی ہوگی۔ ان کے اہم کھلاڑی اب تک اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ ممبئی کی خراب کارکردگی نے ہاردک کی کپتانی کو بھی جانچ کے دائرے میں لایا ہے۔ وہ حکمت عملی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ۔ ممبئی کے بلے باز ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ ہارد نے بلے اور گیند دونوں کے ساتھ معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی باو¿لنگ میں تسلسل نہیں رہا لیکن ان کی بیٹنگ میں نمایاں بہتری کی ضرورت ہے۔

سوریہ کمار اچھے آغاز کو بڑے اسکور میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو کہ تشویشناک بات ہے کیونکہ وہ اب گیند بازوں پر حاوی نہیں رہے جیسا کہ وہ پہلے کرتے تھے۔ ہندوستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان نے 2025 میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا، 2026 میں ان کی شروعات اچھی رہی، لیکن اس کے بعد سے ان کی بلے بازی میں کمی آئی ہے۔ وہ نہ تو مکمل طور پر آو¿ٹ آف فارم نظر آئے ہیں اور نہ ہی وہ کریز پر زیادہ وقت گزار سکے ہیں۔ ممبئی انڈینز اور ایل ایس ایل نے اس سیزن میں ایک جیسی کارکردگی دکھائی ہے۔ دونوں ٹیمیں اجتماعی بیٹنگ کی ناکامیوں سے نبردآزما ہیں، جس کی وجہ سے ان کے فائنل فور میں پہنچنے کے امکانات کافی حد تک معدوم ہو گئے ہیں۔ ایل ایس ایل کے کپتان رشبھ پنت بھی اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہے ہیں۔ ان کی ٹیم لگاتار پانچ میچ ہار چکی ہے اور پوائنٹس ٹیبل کے نیچے کھسک گئی ہے۔

ایل ایس جی نے پہلے میچ میں شکست کے ساتھ شروعات کی اور لگاتار دو جیت کے ساتھ واپسی کی۔ تاہم جب ٹیم کو اچھی کارکردگی دکھانی چاہیے تھی، وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ اس کے گیند بازوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس کی بیٹنگ کی کمزوری اس کے امکانات میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

ایل ایس جی کے آخری میچ میں محسن خان نے 23 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں لیکن ان کی شاندار کوشش ٹیم کو دو پوائنٹس حاصل کرنے میں ناکام رہی کیونکہ آو¿ٹ آف فارم نکولس پوران کو سپر اوور میں بھیجنے کا فیصلہ غلط ثابت ہوا۔ کپتان پنت خود ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں ان کی محدود اوورز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ ہندوستانی وکٹ کیپر بلے باز کو بھی اپنی ٹیم کے لیے رخ بدلنے کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ ایل ایس جی کے پاس سات دنوں میں تین میچ کھیلنے کے لیے ایک مصروف ہفتہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande