
کھیل انتظامیہ میں تاریخی تبدیلی : مرکزی حکومت نے قومی کھیل بورڈ اور کھیل ٹریبونل تشکیل دیا
۔ اب کھیل فیڈریشنوں پر سخت نگرانی ہوگی، کھلاڑیوں اور اداروں کو ملے گا تیز اور سستا انصاف
نئی دہلی، 26 مئی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے ہندوستانی کھیل کے نظام میں بڑی اصلاحات کی سمت میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے قومی کھیل انتظامیہ ایکٹ 2025 کے تحت قومی کھیل انتظامیہ (قومی کھیل بورڈ) قواعد 2026 اور قومی کھیل انتظامیہ (قومی کھیل ٹریبونل) قواعد 2026 کو نوٹیفائی کر دیا ہے۔ سرکاری ریلیز کے مطابق، ان نئے قوانین کے نافذ ہونے کے بعد ملک میں کھیل فیڈریشنوں کے طریقۂ کار، شفافیت اور کھیل کے تنازعات کو نمٹانے کا نظام پوری طرح بدلنے کی امید ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے کھیل انتظامیہ زیادہ جوابدہ، شفاف اور پیشہ ورانہ بنے گی۔
نئے قوانین کے تحت قومی کھیل بورڈ تشکیل دیا جائے گا، جس میں ایک صدر اور دو اراکین ہوں گے۔ ان کا تقرر مرکزی حکومت کی جانب سے سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا۔ یہ بورڈ ملک کے قومی کھیل اداروں کو منظوری دینے، ان کے انتظامی ڈھانچے، مالی شفافیت اور اخلاقی معیارات کی نگرانی کرنے کا کام کرے گا۔ حکومت کے مطابق اب کھیل فیڈریشنوں کو بہتر انتظامی نظام اور مالی ڈسپلن کی پابندی کرنی ہوگی۔
حکومت نے کھیلوں سے متعلق معاملات کے فوری حل کے لیے قومی کھیل ٹریبونل بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹریبونل کھلاڑیوں، کوچوں، کھیل فیڈریشنوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے جڑے تنازعات کی سماعت کرے گا۔ اس کا مقصد دیوانی عدالتوں پر انحصار کم کرنا اور کم خرچ میں تیز انصاف فراہم کرنا ہے۔
نئے قوانین میں ڈیجیٹل نظام کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت ایک خصوصی آن لائن پورٹل شروع کرے گی، جہاں تنازعہ درج کرنے، دستاویزات جمع کرنے، جواب داخل کرنے اور احکامات دیکھنے کی سہولت ملے گی۔ اس کے علاوہ ورچوئل سماعت اور آن لائن ریکارڈ مینجمنٹ کا بھی انتظام ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قوانین ہندوستان کو عالمی کھیل کی سپر پاور بنانے کی سمت میں اہم قدم ہیں۔ اس سے کھلاڑیوں کو بہتر ماحول، کھیل کے اداروں میں شفافیت اور تنازعات کے فوری حل کا فائدہ ملے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ ہندوستانی کھیل انتظامیہ میں اب تک کی سب سے بڑی ادارہ جاتی اصلاحات میں سے ایک مانا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن