
واشنگٹن،23مئی (ہ س)۔تہران اور واشنگٹن کے بیچ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران پر نئے امریکی حملوں کی تیاریوں سے متعلق رپورٹوں میں اضافہ ہو رہا ہے... اس دوران وائٹ ہاو¿س کی ترجمان انا کیلی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سرخ لکیریں بالکل واضح کر دی ہیں۔انہوں نے کہاایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اور نہ وہ اعلیٰ افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔
سی بی ایس نیوز نیٹ ورک کے مطابق ترجمان نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ اور ہر وقت تمام اختیارات محفوظ رکھتے ہیں، اور پینٹاگان کا یہ فرض ہے کہ وہ کمانڈر ان چیف کی طرف سے لیے جانے والے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار رہے۔اس کے علاوہ انہوں نے اشارہ کیا کہ امریکی صدر نے ان نتائج کے بارے میں واضح کر دیا تھا جو تہران کی جانب سے کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب با خبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی حملوں کے ایک نئے دور کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جمعہ کی سہ پہر تک جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دفاعی اور انٹیلی جنس حکام نے بیرون ملک امریکی تنصیبات کے لیے الرٹ لسٹوں کو اپ ڈیٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں تعینات افواج کے دستوں کی خطے سے باہر منتقلی باری باری کی جا رہی ہے، تاکہ ممکنہ ایرانی رد عمل کے خدشات کے پیش نظر وہاں امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے کی کوششوں کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی طرف سے ملک کے خلاف کوئی بھی نیا حملہ تنازع کے دائرے کو مشرق وسطیٰ سے بھی آگے بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے الفاظ میں ایسی جگہوں پر تباہ کن حملوں کی دھمکی دی ہے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔یہ معلومات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان، جو گذشتہ کئی ماہ سے امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، طہران کی جانب سے ایک ایرانی تجویز پر امریکی جواب موصول ہونے کے بعد خلیج کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر نے گذشتہ رات دیر گئے ایرانی وزیر اعظم کے بجائے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تاکہ جنگ کے خاتمے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
مذاکرات میں اب بھی کچھ نکات حل طلب ہیں، خاص طور پر جوہری معاملے، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے۔ جہاں تہران ملک میں اعلیٰ افزودہ یورینیم کی مقدار برقرار رکھنے پر بضد ہے اور تمام امریکی پابندیاں ختم کرنے، بیرون ملک اپنے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنے انتظام کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن اسے تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan