امریکہ کی نئی پابندیاں لبنانی فوج کے افسران اور جنرل سیکورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنائیں گی
بیروت،23مئی (ہ س)۔امریکی پابندیوں کے بعد جو لبنانی فوج کے افسران اور جنرل سکیورٹی کے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، سیاسی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ''''مغرب کی جانب سے بیروت کو پیغامات بھیجے گئے ہیں''''۔ذرائع کے مطابق یہ پیغامات بعض لبنانی
امریکہ کی نئی پابندیاں لبنانی فوج کے افسران اور جنرل سیکورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنائیں گی


بیروت،23مئی (ہ س)۔امریکی پابندیوں کے بعد جو لبنانی فوج کے افسران اور جنرل سکیورٹی کے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، سیاسی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ''مغرب کی جانب سے بیروت کو پیغامات بھیجے گئے ہیں''۔ذرائع کے مطابق یہ پیغامات بعض لبنانی حکام تک پہنچائے گئے جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ آئندہ مزید پابندیاں ایسے سکیورٹی اور انتظامی عہدیداروں (موجودہ اور سابقہ) پر عائد کی جا سکتی ہیں جن پر حزب اللہ کی یونٹ 900 کے لیے سہولت کاری کے الزامات ہیں۔جنوبی کونسل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اس سے متعلق فائلوں کا جائزہ لے رہا ہے، جن میں یہ الزام شامل ہے کہ وہ حزب اللہ کے عناصر کو تنخواہیں ادا کرتا ہے اور اس فنڈ کو جنوبی لبنان اور مغربی بقاع میں عسکری تنصیبات کی تعمیر کے لیے استعمال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس وقت لبنانی یونیورسٹی کی بعض عمارتوں کے حزب اللہ کی یونٹ 900 کے استعمال سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

امریکہ نے دو روز قبل لبنان کے جنرل سکیورٹی کے ڈائریکٹوریٹ میں نیشنل سکیورٹی شعبے کے سربراہ بریگیڈیئر خطار ناصر الدین اور فوج کے انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ میں جنوبی مضافاتی علاقے (حزب اللہ کا مضبوط گڑھ) کے انٹیلیجنس شعبے کے سربراہ کرنل سامر حمادہ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے جاری تنازع کے دوران حزب اللہ کو اہم انٹیلیجنس معلومات فراہم کیں۔یہ پابندیاں ایران کے لبنان میں سفیرحزب اللہ کے تین ارکانِ پارلیمان، ایک سابق وزیر اور حزب اللہ کی اتحادی تنظیم امل تحریک کی دو اہم شخصیات پر بھی لگائی گئیں، جن پر واشنگٹن نے لبنان میں امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔دوسری جانب لبنانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے تمام افسران اور اہلکار اپنے فرائض مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں اور ان کی وفاداری صرف ریاست اور فوجی ادارے کے ساتھ ہے۔

فوج نے یہ بھی کہا کہ اسے امریکی پابندیوں سے پہلے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔جنرل سکیورٹی نے بھی واضح کیا کہ اس کے اہلکار ریاست لبنان کے ساتھ وفادار ہیں اور مکمل غیر جانبداری کے ساتھ فرائض انجام دیتے ہیں، جبکہ کسی بھی اہلکار کی جانب سے معلومات کے افشاءکی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔لبنانی سیاسی قیادت نے ان پابندیوں پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم حزب اللہ اور امل تحریک نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب لبنان امریکہ کی نگرانی میں اسرائیل کے ساتھ فوجی سطح کے مذاکراتی وفد کی تیاری کر رہا ہے، جو 29 مئی کو امریکی وزارت دفاع میں ہونے والی ملاقات میں شریک ہوگا۔اس کے بعد 2 اور 3 جون کو مذاکرات کا ایک اور دور متوقع ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی سیاسی معاہدے تک پہنچنا بتایا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande