
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مونو کے سر اور ناک کی ہڈیاں زیادہ چوٹسے ٹوٹی تھیں
فریدآباد، 23 مئی (ہ س)۔
ہریانہ کے فرید آباد کے تیگاو¿ں تھانہ علاقے میں والی بال کھلاڑی مونو (21) کے قتل کے معاملے میں پولیس نے تین خواتین سمیت 15 لوگوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ تیگاو¿ں پولیس اسٹیشن کے انچارج رندھیر نے ہفتہ کو بتایا کہ مونو (21) راجستھان کے بھیواڑی کے سید پور گاو¿ں کا رہنے والا تھا۔ اس کے خلاف اپریل میں ایک لڑکی کو اغوا کرنے کے الزام میں ایف آئی آر نمبر 51 درج کی گئی تھی۔ پولیس فی الحال اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ لڑکی کے گھر والوں نے اسے کہاں اور کیسے اغوا کیا۔ اس معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شدید مار پیٹ کی وجہ سے مونو کے سر اور ناک ٹوٹ گئی تھی۔ پسلیاں ٹوٹ کر اس کے پھیپھڑوں میں گھس گئیں۔ اس کے ہاتھوں اور پیروں پر گہرے زخم پائے گئے۔ مقتول مونو کی تقریباً آٹھ ماہ قبل نابالغ لڑکی سے دوستی ہوئی تھی۔ لڑکی کے ماموں مونو کے گاو¿ں میں رہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ گھر والے اس رشتے کو ناپسند کرتے تھے۔ تقریباً ایک ماہ قبل لڑکی گھر سے چلی گئی۔ گھر والوں نے اس کا الزام مونو کی سازش پر لگایا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔
17 مئی کو، مونو کیس کے سلسلے میں پولیس اسٹیشن جانے کے لیے گھر سے (بھیواڑی، راجستھان میں) نکلا۔ راستے میں لڑکی کے گھر والوں نے اسے اغوا کر لیا اور تین دن تک قید میں رکھا۔ اسے بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔ مونو کو نیم مردہ حالت میں گھر سے باہر پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے خود پولیس کو اطلاع دی۔ مونو کے چچا نریندر نے بتایا کہ تقریباً آٹھ ماہ قبل اس کی فرید آباد کے تنگاو¿ں تھانہ علاقے کی ایک نابالغ لڑکی سے دوستی ہوئی تھی۔ لڑکی اکثر سید پور میں اپنے ماموں کے گھر جاتی تھی۔ ان کے گھر ایک دوسرے کے قریب تھے۔ یہیں سے ان کے درمیان معاشقہ شروع ہو گیا۔ مونو کبڈی اور والی بال کا کھلاڑی تھا، اس نے ریاستی سطح کے والی بال مقابلوں میں کئی تمغے جیتے تھے۔ مونو خاندان کا سب سے بڑا بیٹا تھا جس کے دو چھوٹے بھائی پڑھ رہے تھے۔ سید پور سے فرید آباد واپس آنے کے بعد لڑکی نے مونو سے بات چیت شروع کردی۔ اپریل میں لڑکی کسی کو بتائے بغیر گھر سے چلی گئی۔ خاندان نے مونو کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے تیگاو¿ں پولیس اسٹیشن میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔ لڑکی کو دو دن بعد دہلی کے لال قلعہ سے برآمد کیا گیا تھا۔ مونو کے رشتہ دار مراری گرجر نے بتایا کہ پولیس کیس درج ہونے کے بعد انہوں نے خود لڑکی کی تلاش کی اور اسے اس کے گھر چھوڑ دیا۔ مونو کے چچا نریندر نے بتایا کہ 17 مئی کی صبح مونو اپنی بائک پر گھر سے نکلا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ تیگاو¿ں پولیس اسٹیشن میں تفتیش میں حصہ لینے جا رہا ہے۔ وہ اس دوپہر فرید آباد پہنچا، لیکن تیگاو¿ں پہنچتے ہی لڑکی کے والد نے اہل خانہ کے ساتھ مل کر اسے اغوا کر لیا۔ نریندر نے بتایا کہ انہوں نے مونو کو تین دن تک اپنے فارم کے ایک گھر میں یرغمال بنایا۔ اسے بار بار مارا پیٹا گیا۔ جب مونو بے ہوش ہوا تو انہوں نے اسے گاو¿ں کی سڑک پر پھینک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے خود پولیس کو واقعہ کی اطلاع دی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ