کیوبا جزیرہ چین اور روس کےلئے جاسوسی کا گڑھ،امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ
واشنگٹن،23مئی (ہ س)۔ایسا نظر آتا ہے کہ کیوبا کے لیے امریکی دھمکیاں اور انتباہات بلاوجہ نہیں ہیں، کیونکہ امریکہ کی جانب سے اس ملک کو اپنا عقبی آنگن سمجھے جانے کے ساتھ ساتھ چین اور روس کی جاسوسی کی کارروائیوں کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔خفیہ معلوما
کیوبا جزیرہ چین اور روس کےلئے جاسوسی کا گڑھ،امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ


واشنگٹن،23مئی (ہ س)۔ایسا نظر آتا ہے کہ کیوبا کے لیے امریکی دھمکیاں اور انتباہات بلاوجہ نہیں ہیں، کیونکہ امریکہ کی جانب سے اس ملک کو اپنا عقبی آنگن سمجھے جانے کے ساتھ ساتھ چین اور روس کی جاسوسی کی کارروائیوں کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔خفیہ معلومات کے جائزوں سے با خبر امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ چین اور روس دونوں نے حالیہ برسوں میں کیوبا میں اپنے انٹیلی جنس آپریشنز کو وسعت دی ہے اور الیکٹرونک مانیٹرنگ (سگنلز انٹیلی جنس) کی ایسی تنصیبات میں سرمایہ کاری کی ہے جو فلوریڈا میں امریکی فوجی مقامات کی جاسوسی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انہوں نے 2023 سے اب تک وہاں کام کرنے والے انٹیلی جنس اہل کاروں کی تعداد کو بھی تقریباً تین گنا بڑھا دیا ہے۔

جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ بیجنگ اور ماسکو زیادہ جدید مانیٹرنگ آلات کا اضافہ کر رہے ہیں تاکہ دو ایسے امریکی فوجی ہیڈ کوارٹرز کی جاسوسی کی جا سکے جو مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں آپریشنز کی نگرانی کرتے ہیں۔علاوہ ازیں تازہ ترین جائزوں سے با خبر حکام نے انکشاف کیا ہے کہ جزیرے پر سگنلز انٹیلی جنس کے 18 معروف مقامات میں سے 3 کو چین براہ راست چلاتا ہے، جبکہ روس اس وقت دیگر 2 مقامات کو چلا رہا ہے، جب کہ باقی مقامات کیوبا کے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان چینی اور روسی اڈوں میں سے کچھ کیوبا کے حکام کے ساتھ مشترکہ طور پر چلائے جا رہے ہیں۔اسی تناظر میں ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار نے کہا کہ چین اور روس کیوبا میں اپنے مقامات کو اپنے اہم ترین بیرونی مانیٹرنگ پوائنٹس میں شمار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تنصیبات کی تعداد اور ان میں کام کرنے والے غیر ملکی انٹیلی جنس اہل کاروں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حساب کتاب میں شامل ہے جو ہوانا میں حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکام کے مطابق بیجنگ اور ماسکو کی جانب سے نگرانی کے اہم اہداف ٹیمپا میں امریکی سینٹرل کمانڈ اور میامی کے قریب امریکی سدرن کمانڈ پر مرکوز ہیں، اگرچہ ان کے آلات زیادہ تر غیر خفیہ مواصلات کو ہی روک پاتے ہیں۔ خاص طور پر چونکہ امریکہ اپنے مخالفین کی انٹیلی جنس اور مانیٹرنگ کی کوششوں کو پیچیدہ بنانے کے لیے جدید ترین ذرائع رکھتا ہے، جو میزائل لانچ کرنے کی تنصیبات اور قریبی بحری سرگرمیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔دوسری جانب حکام کے مطابق ہوانا نے حال ہی میں اپنی زیادہ تر انٹیلی جنس کوششیں گوانتانامو بے پر مرکوز کر رکھی ہیں، جو کیوبا کے جنوب مشرقی سرے پر واقع ایک امریکی اڈا ہے۔با خبر حکام نے یہ بھی اشارہ کیا کہ چین اور روس اپنی جمع کردہ کچھ معلومات ہوانا کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر معلومات وہ اپنے پاس ہی رکھتے ہیں۔

مزید برآں انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ نے حال ہی میں نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کے دستخط کردہ ایک حکم کے بعد، حالیہ ہفتوں میں کیوبا میں اپنی انٹیلی جنس دل چسپی کی سطح کو بڑھا دیا ہے۔ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ انتظامیہ بنیادی طور پر جزیرے پر تیز رفتاری سے جاسوسی کا سلسلہ برقرار رکھے ہوئے تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ کیوبا کے ارد گرد جاسوسی ڈرون طیاروں کی تقریباً روزانہ پروازیں چلاتا ہے اور وہاں کی پیش رفت پر گہری نظر رکھنے کے لیے جاسوسی سیٹلائٹس کا رخ بھی موڑ دیا ہے۔

یہ نئے انٹیلی جنس جائزے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کیوبا امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک غیر معمولی اور استثنائی خطرہ ہے اور اس بات کی تائید کی ہے کہ یہ کمیونسٹ ریاست واشنگٹن کے مخالفین کے لیے ایک مشکوک میزبان کا کردار ادا کر رہی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی سرزمین سے لگ بھگ 90 میل کے فاصلے پر روسی اور چینی انٹیلی جنس موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا اسی لیے کیوبا ہمیشہ سے امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ رہا ہے۔واضح رہے کہ جزیرے پر چین اور روس کی سالہا سال کی انٹیلی جنس سرگرمیوں کے باوجود واشنگٹن اب اس معاملے کو کیوبا پر دباو¿ بڑھانے کی مہم کے لیے اپنے عوامی موقف کو مضبوط کرنے کے لیے زیادہ استعمال کر رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande