
نئی دہلی، 12 مئی ( ہ س): مغربی ایشیا کے بحران سے جڑی بڑھتی ہوئی توانائی لاگت کے درمیان اپریل کے مہینے میں خوردہ مہنگائی بڑھ کر 3.48 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے پہلے مارچ میں یہ شرح 3.40 فیصد تھی۔ مسلسل چھٹے مہینے اس میں اضافہ درج کیا گیا ہے، جس کے باعث خوردہ مہنگائی اب ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ قومی شماریات کے دفتر (این ایس او) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اس کی بڑی وجہ مغربی ایشیا کے بحران سے وابستہ بڑھتی ہوئی توانائی لاگت کے ساتھ ساتھ خوراک اور مشروبات، کپڑوں، رہائش اور دیگر ضروری سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
این ایس او کی جانب سے سال 2024 کو بنیاد مان کر جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق غذائی مہنگائی کی شرح اپریل میں سالانہ بنیاد پر بڑھ کر 4.2 فیصد ہو گئی، جبکہ مارچ میں یہ 3.87 فیصد تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 3.74 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 3.16 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مہنگائی میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ریزرو بینک نے گزشتہ ماہ مالی سال 27-2026 کے لیے آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی بنیاد پر افراطِ زر کا تخمینہ 4.6 فیصد رکھا تھا۔ اس میں پہلی سہ ماہی کے لیے 4 فیصد مہنگائی کا اندازہ ظاہر کیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد