ساولاکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے متعلق جاریغیر یقینی صورتحال پر عوام نے تشویش کا اظہار کیا
جموں, یکم مئی (ہ س)۔ ساولاکوٹ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے صدر ایڈوکیٹ فیروز خان کی قیادت میں رامبن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ساولاکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے متعلق جاری غیر یقینی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈ
Rmban


جموں, یکم مئی (ہ س)۔ ساولاکوٹ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے صدر ایڈوکیٹ فیروز خان کی قیادت میں رامبن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ساولاکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے متعلق جاری غیر یقینی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ فیروز خان نے کہا کہ مجوزہ روڈ ڈائیورشن کے حوالے سے مسلسل وضاحت کی کمی نے مقامی آبادی میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کو 13 اپریل کو ہونے والی بات چیت کے دوران باضابطہ طور پر اٹھایا جا چکا ہے، جس میں ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایم ایل اے ادھم پور (ویسٹ ) کی جانب سے پیش کردہ ایک تجویز کو آگے بڑھایا تھا۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ تجویز میں مبینہ طور پر پروجیکٹ کے لیے روڈ کنیکٹیویٹی رامبن کے بجائے ادھم پور کے راستے فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے، جس سے رامبن کے عوام میں اپنے جائز حقوق اور حصہ داری کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

کمیٹی نے ان اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی جن میں پروجیکٹ سائٹ کو رامبن سے 2 سے 3 کلومیٹر دور منتقل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ایس جے اے سی نے خبردار کیا کہ اگر ایسا کیا گیا تو رامبن کا کردار محض ذخائر والے علاقے تک محدود ہو سکتا ہے، جبکہ ماحولیاتی اور سماجی بوجھ کا بڑا حصہ ضلع کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ایڈوکیٹ فیروز خان نے کہا کہ اندازوں کے مطابق متاثرہ زمین کا تقریباً 88 فیصد حصہ رامبن ضلع میں آتا ہے، اور اگر پروجیکٹ کی سمت تبدیل کی گئی تو مقامی لوگوں کو غیر متناسب طور پر زیر آب آنے اور دیگر نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر فوری وضاحت فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ رامبن کے عوام کے حقوق اور مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande