
جموں, یکم مئی (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 18 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق آج یکم مئی سے فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ کمشنر کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔جاری کردہ احکامات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں بسوں، ٹیکسیوں اور ای-آٹو رکشاؤں کے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ منی بسوں کے لیے مکمل نظرثانی شدہ کرایہ فہرست آئندہ ایک دو دن میں جاری کی جائے گی۔ تاہم منی بسوں کے ابتدائی فاصلے کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کشمیر کے میدانی علاقوں میں فی کلومیٹر فی مسافر کرایہ 1.19 روپے سے بڑھا کر 1.40 روپے اور پہاڑی علاقوں میں 1.64 روپے سے بڑھا کر 1.94 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح جموں کے میدانی علاقوں میں کرایہ 1.12 روپے سے بڑھا کر 1.32 روپے جبکہ پہاڑی علاقوں میں 1.59 روپے سے بڑھا کر 1.88 روپے کر دیا گیا ہے۔منی بسوں کے کرایوں میں بھی اضافہ کرتے ہوئے پہلے تین کلومیٹر کا کرایہ 7 روپے سے بڑھا کر 8 روپے، 5 کلومیٹر کے لیے 12 سے بڑھا کر 14 روپے اور 10 کلومیٹر کے لیے 15 سے بڑھا کر 18 روپے مقرر کیا گیا ہے۔حکومت نے خصوصی طبقات کے لیے رعایتیں برقرار رکھی ہیں۔ معذور افراد، آزادی پسندوں، تھیلیسیمیا اور کینسر کے مریضوں سمیت نابینا و گونگے بہرے افراد کو 50 فیصد کرایہ رعایت دی جائے گی۔ طلبہ کو بھی تعلیمی اوقات میں آنے جانے کے دوران نصف کرایہ ادا کرنا ہوگا۔حکام نے ٹرانسپورٹ آپریٹروں کو ہدایت دی ہے کہ نئی مقررہ شرحوں پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر