
سرینگر، یکم مئی (ہ س)۔ جموں و کشمیر پولیس کے خصوصی کرائم برانچ سیل نے نوکریوں سے متعلق دھوکہ دہی کے ایک بڑے کیس میں چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں تین افراد پر سرکاری ملازمتوں کے وعدے پر لاکھوں روپیہ ہڈپ کر لوگوں کو دھوکہ دینے کا الزام لگایا گیا ہے،۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے اپنے آپ کو بااثر اہلکار ظاہر کیا اور فرضی تقرری کے احکامات جاری کیے، جس سے ایک منظم گھوٹالے کا پردہ فاش ہو گیا جو اب مقدمے کی سماعت کے لیے سری نگر کی ایک عدالت کے سامنے ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اسپیشل کرائم ونگ کشمیر نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سری نگر کی عدالت میں ایف آئی آر نمبر 09/2019 زیر دفعہ سیکشن 201, 419, 420, 420, 460, 468, 468 کے تحت چارج شیٹ داخل کی ہے۔ فراڈ اور جعلسازی کے الزامات کی تفصیلی چھان بین کے بعد ان کو گرفتار کرکے انکے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔یہ معاملہ پلوامہ کے رہائشیوں کی شکایت سے شروع ہوا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے شکایت کنندگان کے بچوں اور رشتہ داروں کو سرکاری ملازمتیں دلانے کے بہانے دھوکہ دہی سے لاکھوں روپے حاصل کیے ہیں۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم، مجرمانہ سازش میں کام کرتے ہوئے، بااثر اہلکار ظاہر کرتے تھے اور محکمہ جنگلات سے مبینہ طور پر جعلی تقرری کے احکامات جاری کرتے تھے، بعد میں اس کے جعلی ہونے کی تصدیق ہوئی۔ ترجمان نے کہا کہ ادائیگیاں مبینہ طور پر ’’بیک ڈور انٹری‘‘ کی آڑ میں نقدی میں لی گئیں۔ چالان عدالتی فیصلہ کے لیے معزز مجاز عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دھوکہ بازوں کے خلاف چوکس رہیں اور ایسے کسی بھی واقعات کی اطلاع براہ راست ایس ایس پی کرائم برانچ کشمیر کو دیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir