
آسنسول، 09 اپریل (ہ س)۔ آسنسول میں وزیراعظم کے مجوزہ عوامی جلسے سے قبل سیاسی ماحول پوری طرح گرما گیا ہے۔ جمعرات کو ہونے والی اس ریلی کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ترنمول کانگریس کے درمیان تیکھی بیان بازی شروع ہو گئی ہے، جس سے انتخابی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ بی جے پی رہنماوں کا الزام ہے کہ کلٹی علاقے سے حامیوں کو جلسہ گاہ تک پہنچانے کے لیے جن بسوں کا انتظام کیا گیا تھا، ان میں سے بڑی تعداد میں بسوں کی بکنگ اچانک منسوخ کر دی گئی۔
پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم دباو ڈال کر اٹھوایا گیا، تاکہ کارکنوں کی موجودگی کو کم کیا جا سکے۔ ضلع کی سطح کے ایک بی جے پی عہدیدار نے اسے جمہوری عمل میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات سیاسی بدنیتی کو ظاہر کرتے ہیں۔
بی جے پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بس مالکان کو مبینہ طور پر وارننگ دی گئی کہ اگر انہوں نے پارٹی حامیوں کو ریلی میں لے جانے کے لیے گاڑیاں فراہم کیں، تو انہیں معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس حوالے سے پارٹی رہنماوں نے اسے ’سیاسی انتقام‘ قرار دیا اور کہا کہ عوام اس رویے کا جواب دیں گے۔ وہیں، ترنمول کانگریس نے ان تمام الزامات کو سرے سے مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی سے وابستہ ایک ٹرانسپورٹ یونین لیڈر نے کہا کہ جن بسوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ نجی یا یونین سے وابستہ وسائل ہیں اور کسی بھی تنظیم کو انہیں کسی خاص سیاسی پروگرام کے لیے دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بی جے پی پر ہی اپنی تنظیمی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے الزامات لگانے کا الزام لگایا۔
کچھ بی جے پی امیدواروں کا کہنا ہے کہ کچھ مقامات سے بسیں منسوخ ہونے کی اطلاع ضرور ملی ہے، لیکن اس کا ریلی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم کی مقبولیت کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ خود بخود جلسے میں پہنچیں گے۔ اب سب کی نظریں آسنسول میں ہونے والی اس ریلی پر مرکوز ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن