
اشوک سمراٹ بھون کی تعمیر سے 40 خاندانوں بے گھر، متبادل زمین کا مطالبہ
کشن گنج، 9 اپریل (ہ س)۔ ٹھاکر گنج نگر پنچایت علاقہ کے کھوپرا پٹی میں مجوزہ اشوک سمراٹ بھون کی تعمیر نے تقریباً 40 خاندانوں کے لیے بحران پیدا کر دیا ہے۔ برسوں سے سرکاری زمین پر رہائش پذیر اس خاندان کو اب بے گھر ہونے کی فکر ستا رہی ہے اور متاثرہ افراد انتظامیہ سے متبادل زمین فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نگر پنچایت کے چیف کونسلر سکندر پٹیل کی قیادت میں متاثرہ خاندانوں کے نمائندے ٹھاکر گنج زونل دفترپہنچے اور زونل افسر مرتونجے کمار سے ملاقات کی۔ تمام 40 خاندانوں کی جانب سے مشترکہ درخواست جمع کراتے ہوئے انہوں نے خود کو بے زمین قرار دیا اور اپنے گھروں کے لیے متبادل زمین کا مطالبہ کیا۔
اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی برسوں سے مذکورہ مقام پر مقیم ہیں۔ اب تجاوزات ہٹانے کے عمل اور اشوک سمراٹ بھون کے پروجیکٹ سے انہیں اچانک بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ عمارت کی تعمیر شروع ہونے سے قبل ان کو زمین فراہم کرائی جائے ۔
چیف کونسلر سکندر پٹیل نے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ترقیاتی کام ضروری ہیں، لیکن غریب اور بے زمین خاندانوں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو اس وقت تک بے گھر نہ کیا جائے جب تک ان کی بحالی کے انتظامات نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے اہل خانہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ دریں اثنا، بلاک ڈیولپمنٹ افسر مرتونجے کمار نے بتایا کہ 40 خاندانوں سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ درخواستوں کی بنیاد پر تمام خاندانوں کے اسٹیٹس کی چھان بین کی جائے گی۔ اگر تحقیقات میں خاندانوں کے بے زمین ہونے کا انکشاف ہوا تو انہیں سرکاری ضابطوں کے تحت زمین فراہم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی خاندان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا جائے گا اور قواعد کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan