
نئی دہلی، 9 اپریل (ہ س)۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے 2028 کی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس آف دی پارٹیز (کاپ 33) کی میزبانی سے دستبردار ہونے کے ہندوستان کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے یکم دسمبر 2023 کو دبئی میں بڑے دھوم دھام سے اعلان کیا تھا کہ ہندوستان کاپ 33 کی میزبانی کرے گا، لیکن اب اس پیشکش کو اچانک واپس لینے سے حکومت کی پیرس معاہدے سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، رمیش نے الزام لگایا کہ یہ اعلان 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بین الاقوامی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا، جس طرح 2024 کے انتخابات سے قبل نئی دہلی میں جی20 سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اب بغیر کسی واضح وجہ کے کانفرنس کی میزبانی سے دستبردار ہونا حکومت کے موسمیاتی وعدوں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ 2015 کے پیرس معاہدے کے حوالے سے حکومت کی حقیقی وابستگی پر شکوک پیدا کرتا ہے اور قلیل مدتی اور درمیانی مدت کے کاربن اخراج میں کمی کے اہداف کے حوالے سے حکومت کی سنجیدگی پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی ساتویں اسسمنٹ رپورٹ 2028 تک شائع ہونے کی امید ہے۔ ایسی صورتحال میں، عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کانفرنس کے صدر کے طور پر ہندوستان کا کردار اہم ہے۔مستقبل کے لیے بڑے اہداف طے کرنے سمیت دنیا کی طرف سے دباو¿ پڑے گا۔
قابل غور ہے کہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی فریم ورک (یو این ایف سی سی سی) کے تحت منعقد ہونے والی کاپ دنیا کی سب سے بڑی سالانہ ماحولیاتی کانفرنس ہے۔ رکن ممالک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملیوں، اہداف اور پالیسیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ ہر سال، اس کانفرنس کی میزبانی ایک ہی ملک کرتا ہے، اور عالمی ماحولیاتی کارروائی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ