بنگال میں اقتدار کی تبدیلی اب یقینی ہے: نریندر مودی
آسنسول، 9 اپریل (ہ س): وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ترنمول کانگریس پر سخت حملہ کیا اور دعوی کیا کہ ریاست میں ڈبل انجن والی حکومت قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی لہر مغربی بنگال میں پھیل رہی ہے اور یہ تبدیلی اب پتھر کی لکیر ہو گ
بنگال


آسنسول، 9 اپریل (ہ س): وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ترنمول کانگریس پر سخت حملہ کیا اور دعوی کیا کہ ریاست میں ڈبل انجن والی حکومت قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی لہر مغربی بنگال میں پھیل رہی ہے اور یہ تبدیلی اب پتھر کی لکیر ہو گئی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے جمعرات کو مغربی بنگال کے آسنسول میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بردھمان کے لوگوں کی طرف سے جوش و خروش اور حمایت کا اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پورا بنگال تبدیلی کی خواہش رکھتا ہے۔ ٹی ایم سی کے گناہوں کا پیالہ بھر چکا ہے، اور آئندہ انتخابات ریاست کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ 4 مئی کے بعد نئی حکومت بنے گی اور بنگال ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

مودی نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی کی حکمرانی کے تحت ریاست کے وسائل، صلاحیت اور نوجوانوں کے لیے مواقع پر گنڈوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ بنگال کی دولت جسے ترقی میں لگانا چاہیے تھا، کھلے عام لوٹا جا رہا ہے۔ ریاست کو آگے لے جانے کے بجائے ٹی ایم سی اسے پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے۔

وزیر اعظم نے آسنسول-درگاپور خطے کی صنعتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کبھی ملک میں صنعتی ترقی کا ایک بڑا مرکز تھا۔ انہوں نے کہا، ”سائیکل سے لے کر ریلوے، کاغذ سے اسٹیل، ایلومینیم سے شیشے تک، یہاں صنعتوں کی ایک لمبی فہرست تھی، لیکن آج صنعتیں ہجرت کر رہی ہیں، اور نوجوان روزگار کے لیے ریاست چھوڑنے پر مجبور ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ آزادی کے وقت ملک کی آمدنی میں بنگال کا حصہ تقریباً 12 فیصد تھا لیکن اب اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں اور ٹی ایم سی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان تمام جماعتوں نے بنگال کے لوگوں کو دھوکہ دیا اور ریاست کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ انتخاب صرف حکومت کو تبدیل کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ آسنسول اور بنگال کو اس کی سابقہ صنعتی شناخت میں بحال کرنے کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت ہی مافیا راج سے آزادی اور ترقی کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔

مودی نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بنگال کے لوگوں نے کانگریس، بائیں بازو اور ٹی ایم سی پر بھروسہ کیا ہے، لیکن سب نے انہیں مایوس کیا ہے۔ اب لوگ صرف وعدے نہیں بلکہ کارکردگی اور ٹریک ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلے چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں بی جے پی سب سے مضبوط ہے۔

وزیر اعظم نے امن و امان کے مسئلہ پر ریاستی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال اور سندیشکھالی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹی ایم سی مجرموں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ریاست میں خواتین خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی ہیں اور تیزاب گردی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی حکومت کی مایوسی اسے مرکزی سیکورٹی فورسز بالخصوص سی آر پی ایف پر سوال اٹھانے کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے عوام اس کا جواب دیں گے اور ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔

دراندازی کے معاملے پر وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بنگال کے لوگوں کے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بہت سے علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جس سے مقامی لوگوں کے عقیدے، معاش اور سلامتی متاثر ہو رہی ہے۔

مودی نے کہا کہ 23 اپریل کا ووٹ بنگال کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں سلامتی، ترقی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی کا منتر سب کا ساتھ، سب کا وکاس ہے لیکن جنہوں نے بنگال کو لوٹا ہے ان کا احتساب کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد ریاست کی ترقی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اور ہر مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande