
ممبئی ، 9 اپریل (ہ س) مہاراشٹر کے بارامتی اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب میں کانگریس نے جمعرات کو اپنے امیدوار کا نام واپس لے لیا، جس کے بعد اس انتخاب کے بلامقابلہ ہونے کی راہ تقریباً صاف ہو گئی ہے، اگرچہ کچھ آزاد امیدوار اب بھی میدان میں موجود ہیں۔
نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ پر کیے گئے اس اعلان نے سیاسی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بارامتی میں بلا مقابلہ انتخاب کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں۔
اہم بات یہ رہی کہ راشٹریہ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے لیڈران کی بار بار درخواستوں کے باوجود فیصلہ نہ لینے والے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی ایک فون کال کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ بعد ازاں سپکال نے پریس کانفرنس میں باضابطہ اعلان کیا کہ کانگریس اپنا امیدوار واپس لے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح وزیر اعلیٰ فڑنویس نے سپکال سے بات چیت کی، جس کے بعد انہوں نے فوراً دہلی میں پارٹی قیادت سے رابطہ کیا اور ریاست کے سیاسی حالات سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد حتمی فیصلہ کرتے ہوئے امیدوار کو واپس لینے کا اعلان کیا گیا۔
بیڑ کے دورے پر موجود وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سپکال نے درست فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارامتی کا انتخاب بلا مقابلہ ہو، اسی مقصد کے تحت انہوں نے صبح فون کیا تھا اور انہیں یقین تھا کہ مثبت فیصلہ لیا جائے گا۔
ادھر پوار خاندان کی جانب سے بھی مسلسل کوششیں جاری تھیں۔ راشٹریہ کانگریس (شرد پوار گروپ) کی رکن پارلیمنٹ سپریاسولے اور رکن اسمبلی روہت پوار نے بھی اس سلسلے میں سرگرم کردار ادا کیا، تاہم دہلی سے منظوری نہ ملنے کے باعث سپکال پہلے کوئی فیصلہ نہیں لے پا رہے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ اجیت پوار کے اچانک انتقال کے بعد خالی ہونے والی اس نشست پر ان کی اہلیہ سنیترہ پوار نے راشٹریہ کانگریس پارٹی کی جانب سے نامزدگی داخل کی ہے۔ مہاراشٹر کی سیاسی روایت کے مطابق کسی رہنما کے انتقال کے بعد اس کے اہل خانہ کے رکن کے مقابلے میں دیگر جماعتیں عموماً امیدوار کھڑا نہیں کرتیں، اسی روایت کے تحت بیشتر سیاسی جماعتیں اس انتخاب کو بلا مقابلہ کرانے کی خواہش رکھتی تھیں۔
تاہم کانگریس نے ابتدا میں اس روایت سے ہٹ کر امیدوار کھڑا کیا تھا اور آکاش مورے کو ٹکٹ دیا تھا، جبکہ مہایوتی کے کئی سینئر لیڈران اس انتخاب کو بلا مقابلہ بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے تھے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے