ناسک عصمت دری کیس میں اشوک کھرات کو 5 دن کی پولیس تحویل
ناسک ، 9 اپریل (ہ س) ناسک کے عصمت دری کیس میں اہم پیش رفت کے تحت ضلع عدالت نے خود ساختہ بابا اشوک کھرات کو تیسرے معاملے میں 5 دن کی پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا ہے، جبکہ استغاثہ نے اس پر تفتیش میں تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ آج ملز
Crime Nashik Ashok Kharat Case


ناسک ، 9 اپریل (ہ س) ناسک کے عصمت دری کیس میں اہم پیش رفت کے تحت ضلع عدالت نے خود ساختہ بابا اشوک کھرات کو تیسرے معاملے میں 5 دن کی پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا ہے، جبکہ استغاثہ نے اس پر تفتیش میں تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

آج ملزم کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جج بی این اچھیپورانی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سرکاری وکیل شیلندر باگڑے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم خواتین کو جعلی سانپ اور شیر دکھا کر خوفزدہ کرتا تھا اور نشہ آور مشروبات و مٹھائی دے کر ان کے ساتھ عصمت دری کرتا تھا۔

استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس میں استعمال ہونے والی اشیاء جیسے جعلی جانور اور ادویات کی مزید جانچ ضروری ہے، اس لیے 7 دن کی پولیس تحویل دی جائے۔

دوسری جانب ملزم کے وکیل سچن بھاٹے نے پولیس کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس پہلے بھی یہی دلائل دے چکی ہے اور تفتیش کر چکی ہے، اس لیے مزید تحویل کی ضرورت نہیں ہے۔

عدالت نے ملزم سے بھی پوچھا کہ کیا وہ کچھ کہنا چاہتا ہے، تاہم اس نے کوئی بیان نہیں دیا۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اشوک کھرات کو 5 دن کی پولیس تحویل میں بھیجنے کا فیصلہ سنایا۔

قابل ذکر ہے کہ 17 مارچ کو ایک خاتون نے سرکارواڑا پولیس اسٹیشن میں اشوک کھرات کے خلاف عصمت دری کی شکایت درج کروائی تھی، جس کے بعد اسے 18 مارچ کو گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں 8 دیگر خواتین نے بھی اس کے خلاف الگ الگ شکایات درج کروائیں، جبکہ دھوکہ دہی کے 3 مقدمات بھی اس کے خلاف درج ہیں۔ ان میں سے دو معاملات میں اسے عدالتی تحویل مل چکی ہے، جبکہ تیسرے معاملے میں اب اسے 5 دن کی پولیس تحویل میں بھیجا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande