
ڈھائی کروڑ سے زائد ووٹرز 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے
گوہاٹی، 09 اپریل (ہ س)۔ 16 ویں آسام اسمبلی انتخابات کے لیے 126 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ صبح 07 بجے شروع ہوئی۔ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان پولنگ خوش اسلوبی سے شروع ہوئی۔ اس بار کے انتخابات میں کل 722 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ ریاست کے کل ڈھائی کروڑ سے زائد ووٹرز ان 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ ایک مرحلے میں منعقد ہونے والی پولنگ کے لیے انتظامیہ نے ووٹنگ کے عمل کو بلا تعطل اور منظم طریقے سے مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے ہیں۔ آج صبح 7 بجے سے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔ ریاست کے 31,486 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ویب کاسٹنگ کا انتظام کیا ہے۔ اس بار انتخابات میں کل 1,51,132 پولنگ افسران تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے ساتھ سی آر پی ایف فورس بھی تعینات کی گئی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 16 ویں آسام اسمبلی کے لیے 722 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا، جن میں مرد امیدواروں کی تعداد 663 اور خواتین امیدواروں کی تعداد 59 ہے۔ واضح رہے کہ آسام کے 126 اسمبلی حلقوں کے لیے کل 815 امیدواروں نے 1,389 پرچہ نامزدگی داخل کیے تھے۔ پرچہ نامزدگی کی جانچ کے بعد 789 امیدواروں کو الیکشن لڑنے کے اہل قرار دیا گیا تھا۔ ان 789 درست امیدواروں میں سے 67 امیدواروں نے اپنی نامزدگی واپس لے لی، جس کے نتیجے میں الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی تعداد 722 رہ گئی۔
قابلِ ذکر ہے کہ آسام کی 126 اسمبلی نشستوں پر کل 2,50,54,463 ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر کے امیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ ان میں 1,25,31,552 مرد، 1,25,22,593 خواتین اور 318 تیسری جنس (ٹرانس جینڈر) کے ووٹرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 63,423 سروس ووٹرز ہیں۔
اس الیکشن میں تقریباً 19-18 سال کے 6,42,314 ووٹرز، 80 سال سے زائد عمر کے 2,50,006 اور 2,05,085 خصوصی طور پر معذور ووٹرز ہیں۔ ووٹرز کی تعداد کے لحاظ سے ریاست کا سب سے بڑا اسمبلی حلقہ دلگاوں ہے، جہاں 3 لاکھ 17 ہزار 110 ووٹرز ہیں۔ اس کے برعکس، آسام کا سب سے چھوٹا اسمبلی حلقہ آمری ہے، جہاں 1 لاکھ 494 ووٹرز ہیں۔
آسام کی کل 126 نشستوں میں سے 98 جنرل زمرے کی ہیں، جبکہ 9 نشستیں درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور 19 نشستیں درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے محفوظ ہیں۔ اس بار آسام میں سب سے زیادہ امیدواروں والے اسمبلی حلقوں کی تعداد دو ہے، جن میں 122 نمبر الگاپور-کاٹلی چیرا اور 124 نمبر جنوبی کریم گنج شامل ہیں۔ ان دونوں حلقوں میں 15-15 امیدوار میدان میں ہیں۔ اسی طرح، سب سے کم امیدواروں والے حلقوں کی تعداد 9 ہے، جہاں صرف 2-2 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ یہ حلقے 31 نمبر رنگیا، 52 نمبر جاگی روڈ (ایس سی)، 63 نمبر ہو جائی، 69 نمبر ندووا، 80 نمبر جونائی (ایس ٹی)، 82 نمبر دمدمہ، 94 نمبر ماہمرا، 99 نمبر ٹیک اور 114 نمبر لکھیم پور ہیں۔
یاد رہے کہ 2021 کے 15 ویں اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں ہوئے تھے اور اس وقت بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے اتحاد نے 75 نشستیں حاصل کی تھیں۔ ان میں بی جے پی نے 60، آسام گن پریشد (اے جی پی) نے 9 اور یو پی پی ایل نے 6 نشستیں جیتی تھیں۔ دوسری طرف کانگریس کی قیادت والے مہا گٹھ بندھن نے 46 نشستیں جیتی تھیں، جن میں کانگریس نے 29، اے آئی یو ڈی ایف نے 16 اور سی پی آئی (ایم) نے ایک نشست حاصل کی تھی۔ بقیہ نشستیں آزاد امیدواروں کے حصے میں آئی تھیں۔
ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، جبکہ موجودہ 15 ویں آسام اسمبلی کی مدتِ کار آئندہ 20 مئی کو ختم ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن