
کولکاتا، 09 اپریل (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت کرتے ہوئے ان کی انتخابی مہم پر ایک مخصوص مدت کے لیے پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعلیٰ کے بعض بیانات سے مرکزی سیکورٹی فورسز کے خلاف تشدد پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
بی جے پی نے بدھ کی دیر شام چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ارسال کردہ خط میں الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ نے انتخابات کے دوران ریاست میں تعینات مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی آر پی ایف) کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں، جو آزادانہ اور منصفانہ پولنگ کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ 07 اپریل کو ایک عوامی جلسے میں ممتا بنرجی نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ’سی آر پی ایف کی 200 گاڑیاں لوگوں پر حملہ کرنے آ رہی ہیں۔‘ بی جے پی کے مطابق، اس طرح کا بیان عوام میں خوف کا ماحول پیدا کرنے اور سیکورٹی فورسز کے تئیں بے اعتمادی پیدا کرنے والا ہے۔
اس کے علاوہ بی جے پی نے 03 اپریل کو جنوبی دیناج پور ضلع کے ہری رام پور میں ہونے والے ایک اور جلسے کا بھی ذکر کیا، جہاں وزیراعلیٰ نے الزام لگایا تھا کہ مرکزی فورسز کی گاڑیوں کے ذریعے رقم لائی جا رہی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الزامات مرکزی فورسز کی جانبداری اور آئینی کردار پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔
پارٹی نے اپنے خط میں کہا کہ اس قسم کے بیانات امن و امان کی صورتحال کو متاثر کر سکتے ہیں، ووٹروں میں خوف پیدا کر سکتے ہیں اور انتخابی عمل کی شفافیت کو کمزور کر سکتے ہیں۔
بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ممتا بنرجی کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کی انتخابی مہم پر کچھ وقت کے لیے پابندی لگائی جائے۔ ساتھ ہی ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال کو ہدایت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن