علی گڑھ فائرنگ معاملہ میں اے ایم یو طالب علم شہباز کی شناخت، ہاسٹل کمرے سے اسلحہ اور جعلی دستاویزات برآمد
علی گڑھ, 09 اپریل (ہ س). علی گڑھ کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ نیرج کمار جادون نے کوارسی تھانہ علاقے میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ 7 اپریل 2026 کی صبح تقریباً 4 بجے ایک نقاب پوش نوجوان نے رہائشی علاقے میں ایک مکان کے باہ
اے ایم  چھاپہ مار کاروائی


علی گڑھ, 09 اپریل (ہ س).

علی گڑھ کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ نیرج کمار جادون نے کوارسی تھانہ علاقے میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ 7 اپریل 2026 کی صبح تقریباً 4 بجے ایک نقاب پوش نوجوان نے رہائشی علاقے میں ایک مکان کے باہر فائرنگ کی تھی۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی۔

جانچ کے دوران ملزم کی شناخت شہباز کے طور پر ہوئی، جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ایم سی اے کا طالب علم ہے۔ پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اطلاع دے کر تمام قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے ملزم کے ہاسٹل کے کمرے کی تلاشی لی۔تلاشی کے دوران کمرے سے .32 بور پستول کی دو میگزین، .315 اور 12 بور کے کارتوس، نقلی کرنسی، تقریباً 20 جعلی دستاویزات، ایک لیپ ٹاپ اور ایک ڈیجیٹل پین برآمد کیا گیا۔ ایس ایس پی کے مطابق ملزم مختلف ناموں سے جعلی دستاویزات تیار کرتا رہا ہے اور اس کے خلاف پہلے سے بھی کئی مقدمات درج ہیں۔پولیس ملزم کی کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) اور برآمد شدہ لیپ ٹاپ کی جانچ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی تحقیق کی جا رہی ہے کہ آیا دیگر فائرنگ کے واقعات میں اس کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

وہیں اے ایم یو کے پراکٹر پروفیسر محمد نوید خاں نے بتایا کہ انوپ شہر روڈ واقع ایف ایم ٹاور علاقے میں منگل کی علی الصبح پیش آئے فائرنگ کے معاملے میں پولیس نے تین ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ انہی سے پوچھ گچھ کے بعد بدھ کو پولیس نے ایک اور ملزم شہباز عرف چھوٹو کی تلاش میں سر ضیاء الدین ہال میں چھاپہ مارا۔انہوں نے بتایا کہ ہاسٹل کے ایک کمرے سے کارتوس اور میگزین کے علاوہ نقلی نوٹ، ایک ہی نام کی دو دو مارک شیٹس اور دو دو انرولمنٹ نمبروں کے کاغذات بھی برآمد ہوئے ہیں، جو سنگین بے ضابطگیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔فی الحال ملزم شہباز فرار ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں سرگرم ہیں۔ ایس ایس پی نے یونیورسٹی کے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس طرح کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی اطلاع ہو تو فوراً پولیس کو آگاہ کریں، ان کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ تعلیمی ماحول متاثر نہ ہو۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande