
نئی دہلی، 9 اپریل:(ہ س )۔
جب ہائی کورٹ ایکسائز پالیسی کیس میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی نظرثانی درخواست کی سماعت کر رہی ہے، ایک معروف قانونی صحافی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جسٹس سورنا کانتا شرما کے دونوں بچے مرکزی حکومت کے وکیل کے طور پر ایمپینل ہیں اور سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کے تحت کام کرتے ہیں، جو اس معاملے میں ان کی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، جسٹس سورنا کانتا شرما کے بیٹے ایشان شرما اور بیٹی شمبھوی شرما دونوں کو ستمبر اور نومبر 2025 میں مرکزی حکومت کے پینل کونسل (دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ) کے طور پر ایمپینل کیا گیا تھا۔ یہی مرکزی حکومت (سی بی آئی کے ذریعے) جس کی نمائندگی سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کر رہے ہیں، اروند کیجریوال اور دیگر آپ رہنمں کے خلاف ان کی عدالت میں پیش ہو رہی ہیں ۔انہوں نے مزید لکھا، اس طرح جسٹس سورنا کانتا شرما کے بچوں کا کیریئر سالیسیٹر جنرل تشار مہتا اور مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ یہی جسٹس سورنا کانتا شرما آر ایس ایس کے وکلاءونگ کے زیر اہتمام تقریبات میں بھی شریک ہوتی ہیں۔ کیا ایسی صورتحال میں وہ جج بی جے پی کی مرکزی حکومت کے حق میں جانبدار نہیں ہوں گی جس نے ان کے بچوں کو ایمپینل کیا ہے؟ دریں اثنا، عدالتی خودمختاری پر سوال اٹھاتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے ایکس پر کہا، جج سورنا کانتا شرما کے دونوں بچے مرکزی حکومت کے سرکاری پینل میں کام کرتے ہیں۔ انہیں مرکزی حکومت سے تنخواہ ملتی ہے اور وہ دونوں تشار مہتا کو اپنے باس کے طور پر رپورٹ کرتے ہیں۔ کیا اس ملک میں کوئی یقین کرتا ہے کہ جج تشار مہتا اور مرکزی حکومت کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہیں؟حالیہ سیاسی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا، گزشتہ ہفتے امت شاہ نے کہا تھا کہ اروند کیجریوال کو ہائی کورٹ سزا دے گی۔ اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ کیا یہی ان کے اعتماد کی وجہ تھی۔ دوسری جانب، ایک تازہ رپورٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے کہا، سورَو داس کی ایک اور چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اپنی پچھلی رپورٹ میں انہوں نے دکھایا تھا کہ جسٹس سورنا کانتا شرما سی بی آئی کی جانب سے دائر ایکسائز پالیسی نظرثانی درخواست کو غیر معمولی طور پر کم وقت دے رہی تھیں، جبکہ ٹرائل کورٹ اس کیس کو خارج کر چکی تھی۔ اس تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کے دونوں بچے مرکزی حکومت کے وکیل کے طور پر ایمپینل ہیں اور سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کے تحت کام کر رہے ہیں، جو اسی کیس میں ان کے سامنے دلائل دے رہے ہیں۔ تفصیلات بیان کرتے ہوئے آتشی نے مزید کہا، حقائق یہ ہیں کہ مرکزی حکومت نے جسٹس سورنا کانتا شرما کے دونوں بچوں کو ایمپینل کیا ہے۔ دونوں سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کے تحت کام کرتے ہیں، جو یہ طے کرتے ہیں کہ انہیں کتنے مقدمات دیے جائیں، اور اسی کے مطابق ان کی آمدنی اور شناخت بنتی ہے۔ یہی تشار مہتا ایک سیاسی طور پر حساس کیس میں ان کی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ کیا ان کے بچوں کا کیریئر سالیسیٹر جنرل تشار مہتا پر منحصر نہیں ہے؟ تو کیا یہ مفادات کے ٹکرا کا واضح معاملہ نہیں ہے؟ ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے قومی میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے کہا، یہ حیران کن ہے۔ جسٹس سورنا کانتا شرما کے بیٹے اور بیٹی دونوں کو 2025 میں مرکزی حکومت کے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ پینلز میں شامل کیا گیا۔ یہ سیاسی تقرریاں ہوتی ہیں، حکومت اپنی پسند کے لوگوں کو ان پینلز میں شامل کرتی ہے۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا حکومت کے اعلیٰ ترین وکیل ہیں۔ اس لحاظ سے کیا وہ دراصل جسٹس سورنا کانتا شرما کے بچوں کے باس نہیں ہیں؟ کیا یہ مفادات کا ٹکرا نہیں ہے؟ کیا جسٹس سورنا کانتا شرما کی عدالت سے تشار مہتا کے خلاف کوئی غیر جانبدار فیصلہ متوقع ہے؟ انہوں نے مزید سوال کیا، مودی حکومت، جو عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کے خلاف کھلے عام سازش کر رہی ہے، آخر کیوں اس جج کے بیٹے اور بیٹی کو ہر پینل میں شامل کر رہی ہے جو اس وقت کیجریوال اور دیگر آپ رہنماں سے متعلق کئی مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں؟ اور سب سے غیر منطقی بات یہ ہے کہ جسٹس سورنا کانتا خود اپنی عدالت میں یہ طے کریں گی کہ مفادات کا ٹکرا ہے یا نہیں۔ انصاف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ عام آدمی پارٹی کی چیف ترجمان پریانکا ککّڑ نے ایکس پر لکھا، کیا کوئی جج اس وقت غیر متاثر رہ سکتی ہے جب اس کے سامنے دلائل دینے والا وکیل اس کے بچوں کے کیریئر پر اثر انداز ہو؟ شاید۔ کیا جسٹس سورنا کانتا تشار مہتا کو ناراض کرنے کی متحمل ہو سکتی ہیں؟ لیکن کیا ایسے میں انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا؟ ہرگز نہیں۔ سورَو داس نے اس مسئلے کو نہایت عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais