وزیراعظم کے مجوزہ جلسے کے حوالے سے کمشنریٹ نے ٹریفک مینجمنٹ کے لیے ہدایات جاری کیں
آسنسول، 09 اپریل (ہ س)۔ آسنسول-درگا پور پولیس کمشنریٹ نے وزیراعظم نریندر مودی کے مجوزہ دورے کے پیشِ نظر ٹریفک کنٹرول اور ڈائیورژن کے وسیع احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ احکامات جمعرات کو سکیورٹی، ٹریفک کی روانی اور عام لوگوں کی سہولت کو مدِ نظر رکھتے ہ
ٹریفک کی علامتی تصویر


آسنسول، 09 اپریل (ہ س)۔ آسنسول-درگا پور پولیس کمشنریٹ نے وزیراعظم نریندر مودی کے مجوزہ دورے کے پیشِ نظر ٹریفک کنٹرول اور ڈائیورژن کے وسیع احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ احکامات جمعرات کو سکیورٹی، ٹریفک کی روانی اور عام لوگوں کی سہولت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نافذ کیے جائیں گے۔

پولیس کمشنر ڈاکٹر پروین کمار نے موٹر وہیکل ایکٹ 1988 اور مغربی بنگال ٹریفک ریگولیشن ایکٹ 1965 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کی ہیں۔ حکم نامے کے مطابق صبح نو بجے سے پروگرام کے اختتام تک مختلف اہم سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی اور روٹ ڈائیورژن نافذ رہے گا۔

آسنسول شہر کے کئی اہم راستوں پر بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کیا جائے گا۔ ان میں کالی پہاڑی موڑ (اولڈ جی ٹی روڈ)، بی این آر موڑ، گھڑی موڑ، ودیا ساگر مجسمہ، پولو گراونڈ، جوبلی موڑ، کورٹ روڈ، برن پور روڈ، گیلیکسی مال موڑ، ہاوسنگ موڑ، گرلز کالج روڈ، رادھا نگر، دھرو ڈانگا ریلوے کراسنگ اور یوگی بابا لوکل گراونڈ جیسے علاقے شامل ہیں۔

ان راستوں پر خاص طور پر بھاری گاڑیوں (ٹرک، بس وغیرہ) کے داخلے پر پابندی رہے گی، جبکہ کچھ مقامات پر ہر قسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت محدود یا مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔

ٹریفک کے نظام کو درست رکھنے کے لیے کئی مقامات پر گاڑیوں کو متبادل راستوں کی طرف موڑا جائے گا:

آسنسول بس اسٹینڈ کی طرف آنے والی بسوں کو ضرورت پڑنے پر کالی پہاڑی موڑ کی طرف ڈائیورٹ کیا جائے گا۔

بی این آر موڑ، بھگت سنگھ موڑ، گرجا موڑ اور تریوینی موڑ جیسے اہم جنکشنوں سے گاڑیوں کو دوسرے راستوں پر بھیجا جائے گا۔

منی بسوں اور بڑی گاڑیوں کے لیے الگ الگ ڈائیورژن پلان نافذ رہے گا۔

آٹو اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے بھی ضرورت کے مطابق متبادل روٹ طے کیے گئے ہیں۔

حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ضروری خدمات سے وابستہ گاڑیوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ان میں ایل پی جی، سی این جی، پیٹرولیم اشیاء، آکسیجن، ادویات، دودھ، سبزیاں اور پھل وغیرہ لے جانے والی گاڑیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسکول بسوں اور پول کاروں کو بھی پابندی سے راحت دی گئی ہے۔

پولیس انتظامیہ نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں اور غیر ضروری طور پر ممنوعہ راستوں کا استعمال نہ کریں۔ تمام تھانہ انچارجوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان ہدایات کی وسیع پیمانے پر تشہیر کریں اور سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

وزیراعظم کے جلسے کے حوالے سے سکیورٹی کے پختہ انتظامات کیے گئے ہیں اور ٹریفک نظام کو بہتر بنائے رکھنے کے لیے پولیس پوری طرح مستعد نظر آ رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande