پروفیسر ارشد اسلام نے اپنے کلیدی خطاب میں تاریخ نویسی کے جدید تحقیقی زاویوں، اصولِ تحقیق کی باریکیوں اور ماخذات کے تنقیدی و تقابلی مطالعے کی اہمیت کو نہایت مدلل انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مورخ کا بنیادی فریضہ صرف واقعات کو نقل کرنا نہیں بلکہ ان کی گہرائی تک پہنچ کر سچائی کو علمی دیانت اور معروضیت کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ ان کے مطابق تحقیق ایک فکری ریاضت ہے جس میں سوال اٹھانے اور نئے زاویے تلاش کرنے کی صلاحیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
تقریب کے دوران کالج کے مینیجر جناب اطہر رشید خان اور پروفیسر افسر علی نے مہمانِ خصوصی کو مومنٹو پیش کر کے ان کی علمی خدمات کا اعتراف کیا۔ اس موقع پر پروفیسر محی الدین آزاد، پروفیسر محمد طاہر، ڈاکٹر ابو رافع، ڈاکٹر سدھار سنگھ، ڈاکٹر شہریار اور ڈاکٹر تبریز عالم نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے اور اس علمی نشست کو نہایت مفید قرار دیا۔
صدر شعبۂ تاریخ پروفیسر علاء الدین خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ کی تحقیق محض ماضی کے واقعات کا بیان نہیں بلکہ حال کی تفہیم اور مستقبل کی رہنمائی کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب محقق وہی ہوتا ہے جو روایت اور جدیدیت کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے حقائق تک رسائی حاصل کرے۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ تحقیق کے میدان میں جمود کا شکار نہ ہوں بلکہ تنقیدی شعور، وسیع مطالعہ اور کھلے ذہن کے ساتھ علمی دنیا میں اپنا مقام پیدا کریں۔
پروگرام میں شعبۂ تاریخ سے وابستہ ریسرچ اسکالرز کے علاوہ بی اے اور ایم اے کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ طلبہ نے مہمانِ خصوصی سے مختلف علمی سوالات بھی کیے جن کے انہوں نے تسلی بخش جوابات دیے۔ پروگرام کی نظامت شعبۂ تاریخ کے استاد ڈاکٹر محمد سلیم نے انجام دی۔ یہ علمی نشست طلبہ اور اساتذہ کے لیے نہایت معلوماتی اور فکر انگیز ثابت ہوئی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan