


وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے حادثے پر دکھ کا اظہار کیا، ہلاک شدگان کے لواحقین کو مالی امداد کا اعلان
بھوپال، 30 اپریل (ہ س)۔ ہندوستان کے ضلع دھار میں اندور احمد آباد نیشنل ہائی وے پر چکلیا فاٹا کے پاس بدھ کی رات مزدوروں سے بھری ایک تیز رفتار پک اپ گاڑی بے قابو ہو کر پلٹ گئی۔ اس حادثے میں 6 بچوں سمیت 16 لوگوں کی موت ہو گئی، جبکہ کئی زخمی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے حادثے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
معلومات کے مطابق، دھار ضلع کے ترلا تھانہ علاقے میں چکلیا فاٹا پر جیو پیٹرول پمپ کے تقریباً بدھ کی رات تقریباً 8.30 بجے تیز رفتار پک اپ گاڑی بے قابو ہو گئی اور تین چار بار پلٹی کھاتے ہوئے سڑک کے دوسری طرف جا کر اسکارپیو سے ٹکرا گئی۔ پک اپ گاڑی تقریباً 100 کلومیٹر کی رفتار میں تھی۔ عینی شاہد شبھم سسودیا نے بتایا کہ حادثے کے وقت میں جائے وقوعہ سے کچھ ہی دوری پر موجود تھا۔ اسکارپیو مانگود سے دھار کی طرف جا رہی تھی، جبکہ پک اپ گاڑی دھار سے مانگود کی طرف آ رہی تھی۔ اسی دوران اچانک پک اپ کا ٹائر پھٹ گیا۔ بے قابو ہو کر پک اپ ڈیوائیڈر کو عبور کرتے ہوئے رانگ سائیڈ میں آ گئی اور سامنے سے آ رہی اسکارپیو سے ٹکرا گئی اور پھر پلٹ گئی۔
حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی۔ راہگیروں اور مقامی لوگوں نے موقع پر پہنچ کر فوری طور پر راحت کا کام شروع کیا اور دبے ہوئے لوگوں کو باہر نکالا۔ سڑک پر کئی زخمی مزدور پڑے ہوئے تھے، جس سے صورتحال بے حد سنگین اور حساس بن گئی۔ ایمبولینس کی مدد سے تمام زخمیوں کو دھار کے ضلع اسپتال پہنچایا گیا۔
دھار ضلع اسپتال میں ایک ساتھ بڑی تعداد میں زخمیوں کے آنے سے افراتفری کا ماحول بن گیا۔ یہاں پہنچے کئی زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ اسپتال میں ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل علاج میں مصروف ہے۔ ضلع اسپتال میں موجود ایمرجنسی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر چھترپال سنگھ چوہان نے بتایا کہ موقع پر پہنچے تمام زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ پک اپ کے حادثے کے بعد یہاں زخمی پہنچے ہوئے ہیں۔
حادثے کی معلومات ملنے پر موقع پر پہنچے انچارج کلکٹر ابھشیک چوہدری نے بتایا کہ تیز رفتار پک اپ گاڑی سے ایک حادثہ ہوا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم موقع پر پہنچی اور تمام زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال لایا گیا۔ ابتدائی علاج کے بعد سنگین طور پر زخمی کچھ مریضوں کو بہتر علاج کے لیے اندور ریفر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر کا علاج یہیں جاری ہے۔ موقع پر انتظامیہ، پولیس اور محکمہ صحت کی پوری ٹیم موجود ہے اور تمام زخمیوں کو بہتر سے بہتر علاج ملے، اس کے لیے مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی 108 ایمبولینس خدمات کو بھی فعال کیا گیا ہے۔ اندور ضلع انتظامیہ، وہاں کے سی ایم ایچ او اور صحت کی ٹیم سے تال میل قائم کر لیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مریضوں کو اندور کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ریفر کیا جائے گا۔
اندور کمشنر سدام کھاڑے نے بتایا کہ پک اپ گاڑی میں تقریباً 46 لوگ سوار تھے۔ زخمیوں کے علاج کو لے کر انتظامیہ نے انتظام کیا ہے۔ سنگین طور پر زخمی سات لوگوں کو بہتر علاج کے لیے اندور ریفر کیا گیا ہے۔ وہیں تقریباً 15 زخمیوں کا علاج مقامی اسپتالوں میں چل رہا ہے، جبکہ چھ دیگر کا علاج نجی اسپتالوں میں جاری ہے۔ دھار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ مینک اوستھی نے بتایا کہ پک اپ گاڑی تیز رفتار میں تھی۔ ڈرائیور کے کنٹرول کھونے سے گاڑی تین چار بار پلٹی۔ اسی دوران سڑک کے دوسری طرف جا کر اسکارپیو سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں 16 لوگوں کی موت ہو گئی۔
ایس پی اوستھی کے مطابق، ہلاک شدگان میں تنو (9 سال) دختر امیش ساکن نیا پورہ دھار، انگوری بائی (35) زوجہ بھوریا ساکن سیملی پورہ دھار، مینا بائی (45) زوجہ کرشنا ساکن پٹیل پورہ دھار، سمت (14) ولد نانو رام ساکن نیا پورہ دھار، کرن (9) دختر دنیش ساکن سیملی پورہ دھار، بھوری بائی (35) زوجہ سندر ساکن سیملی پورہ دھار، رنجنا (25) دختر منیش ساکن سیملی پورہ دھار، آیوش (14) ولد راجیندر ساکن نیا پورہ دھار، گوکل (15) ولد کیلاش ساکن نیا پورہ دھار، سنیتا (42) زوجہ نارائن ساکن نیا پورہ دھار، کانتا (45) زوجہ ادے سنگھ ساکن سیملی پورہ، رنکو (19) ولد کنور لال ساکن نیا پورہ دھار، رنجنا (22) دختر رام سنگھ ساکن نیا پورہ دھار، ساوتری بائی (30) زوجہ سبھاش ساکن دھار، سنگیتا (35) زوجہ پپو ساکن نیا پورہ دھار اور پریا دختر وشنو ساکن رام پورہ دھار شامل ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے دھار حادثے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں ہوئے حادثے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے تئیں میری دلی تعزیت ہے۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی پرارتھنا کرتا ہوں۔ وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ (پی ایم این آر ایف)سے ہلاک شدگان کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے کی عنایتی رقم دی جائے گی۔ زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی امداد فراہم کی جائے گی۔
وہیں، وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے دھار حادثے کے متاثرین کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ دھار ضلع میں اندور-احمد آباد نیشنل ہائی وے پر واقع چکلیا فاٹا کے قریب ہوا سڑک حادثہ دل دہلا دینے والا ہے۔ میری تعزیت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ ہلاک شدگان کے لواحقین کو 4-4 لاکھ روپے، سنگین زخمیوں کو 1-1 لاکھ روپے نیز زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اندور ڈویژنل کمشنر اور آئی جی کو علاج کے انتظام کے لیے دھار جانے کی ہدایت دی ہے۔ تمام زخمیوں کا علاج مفت کیا جائے گا۔ ایشور آنجہانیوں کو امن اور سوگوار خاندانوں کو دکھ برداشت کرنے کی طاقت دے۔ زخمیوں کے جلد صحت یابی کی پرارتھنا ہے۔
دھار کے ضلع انچارج وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سی ایم ایچ او ڈاکٹر مادھو ہسانی نے کہا کہ اندور میں بھی اسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دھار سے آنے والے زخمیوں کے بہتر علاج کی ہدایت دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن