
علی گڑھ, 30 اپریل (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے شعبۂ امراضِ نسواں و زچگی کی جانب سے، علی گڑھ آبسٹیٹرکس اینڈ گائناکولوجیکل سوسائٹی (AOGS) کے تعاون سے، جے این میڈیکل کالج کے آڈیٹوریم میں آشا کارکنان کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن پر ایک اہم تربیتی پروگرام اور میڈیا ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد زمینی سطح پر کام کرنے والی آشا کارکنان کو ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین کی اہمیت، اس کی سائنسی بنیاد اور کمیونٹی میں اس کے مؤثر فروغ کے لیے تیار کرنا تھا، تاکہ سروائیکل کینسر جیسی سنگین بیماری کی روک تھام کو مضبوط بنایا جا سکے۔
پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے اے او جی ایس کی صدر پروفیسر تمکین خاں نے کہا کہ بھارت میں سروائیکل کینسر خواتین میں پائے جانے والے بڑے کینسروں میں شامل ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں اس کے کیس سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر بروقت ایچ پی وی ویکسینیشن اور باقاعدہ جانچ کو اپنایا جائے تو اس بیماری پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آشا کارکنان کو اس مہم کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ گاؤں گاؤں اور گھر گھر جا کر خواتین اور نوعمر لڑکیوں میں بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
شعبۂ امراضِ نسواں کی صدر پروفیسر زہرہ محسن نے اپنے خطاب میں ایچ پی وی انفیکشن کی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک عام وائرس ہے جو زیادہ تر جلدی اور جنسی رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر معاملات میں جسم کی قوتِ مدافعت خود اس انفیکشن سے نمٹ لیتی ہے، لیکن بعض اقسام طویل عرصہ تک جسم میں رہ کر سروائیکل کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ پی وی ویکسین اس انفیکشن سے بچاؤ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اور 9 سے 14 سال کی عمر کے بچوں—چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں—دونوں کے لیے محفوظ اور مفید ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سروائیکل کینسر کی روک تھام کے دو اہم ستون ہیں—ایچ پی وی ویکسینیشن اور باقاعدہ اسکریننگ (جانچ)۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ویکسین کا تولیدی صلاحیت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، جو کہ معاشرے میں پھیلی ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ سائنسی مطالعات کے مطابق یہ ویکسین تقریباً 90 فیصد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔
میڈیا ڈائیلاگ سیشن کے دوران ماہرین نے تفصیل سے بتایا کہ ایچ پی وی انفیکشن اکثر بغیر کسی واضح علامات کے ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بروقت تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔ اس لیے خواتین کے لیے باقاعدہ جانچ نہایت ضروری ہے۔ مقررین نے کہا کہ اس موضوع پر معاشرے میں پائی جانے والی جھجھک اور غلط فہمیوں کو دور کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ویکسینیشن اور اسکریننگ کے لیے آگے آئیں۔
پروگرام میں شریک آشا کارکنان کو ویکسینیشن کے طریقۂ کار، اس کے فوائد، ممکنہ غلط فہمیوں اور کمیونٹی میں مؤثر رابطہ قائم کرنے کے طریقوں پر عملی تربیت بھی دی گئی۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ دیہی و شہری علاقوں میں خواتین کو کس طرح اس بات کے لیے آمادہ کر سکتی ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو بروقت ویکسین لگوائیں اور خود بھی باقاعدہ صحت کی جانچ کروائیں۔
اس موقع پر مقررین نے بتایا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں ملک گیر ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کو تیزی دی جا رہی ہے، جس کا مقصد بھارت میں خواتین میں پائے جانے والے بڑے کینسر—سروائیکل کینسر—کی مؤثر روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے تربیتی پروگراموں سے بیداری میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں سروائیکل کینسر کے معاملات میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی۔
پروگرام میں ڈاکٹر سمبل نعیم، پروفیسر نسرین نور، ڈاکٹر نمرتا بھاردواج، ڈاکٹر راکھی مہروترا، ڈاکٹر الپنا ورشنیہ اور ڈاکٹر روشن پروین سمیت متعدد معالجین، محققین اور طبی عملہ موجود رہا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ