روایتی طریقۂ علاج سے سب کے لیے صحت: اے ایم یو میں قومی ورکشاپ، ماہرین نے یونیورسل ہیلتھ کوریج پر دیا زور
علی گڑھ, 30 اپریل (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خان طبیہ کالج کے شعبہ علاج بالدتبیرکی جانب سے آج حکومت ہند کے “وکست بھارت مشن” کے اہداف کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک اہم یک روزہ قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع “روایتی طریقۂ علاج کے
پروفیسر بدر الدجی خان خطاب کرتے ہوئے


علی گڑھ, 30 اپریل (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خان طبیہ کالج کے شعبہ علاج بالدتبیرکی جانب سے آج حکومت ہند کے “وکست بھارت مشن” کے اہداف کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک اہم یک روزہ قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع “روایتی طریقۂ علاج کے ذریعے یونیورسل ہیلتھ کوریج” تھا۔ اس ورکشاپ میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ کس طرح روایتی طبی نظام کے ذریعے صحت کی سہولیات کو معاشرے کے آخری فرد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

یہ پروگرام اجمل خاں طبیہ کالج کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جہاں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ماہرین، اساتذہ، محققین اور طبی میدان سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر آصف علی خاں (چیئرمین، یونانی، سدھا و سووا رِگپا بورڈ، حکومت ہند) نے اپنے خطاب میں کہا کہ روایتی طبی نظام خصوصاً یونانی طریقۂ علاج نہ صرف ہماری تہذیبی وراثت کا حصہ ہے بلکہ آج کے دور میں بھی اس کی افادیت مسلمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر ہم روایتی اور جدید طب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں تو یونیورسل ہیلتھ کوریج کے خواب کو حقیقت میں بدلنا ممکن ہے، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں جہاں جدید سہولیات محدود ہیں۔”

مہمانِ اعزاز ڈاکٹر این۔ ظہیر احمد (وزارتِ آیوش) نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت ہند روایتی طب کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “آیوش نظام کے تحت یونانی، آیوروید اور دیگر روایتی طریقۂ علاج کو قومی صحت پالیسی کا اہم حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ہر شہری کو سستی اور مؤثر علاج کی سہولت میسر ہو سکے۔”

صدارت کرتے ہوئے پروفیسر سید شاکر جمیل نے کہا کہ “روایتی طبی نظام صرف علاج ہی نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتا ہے، جو بیماریوں کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے جدید تحقیق کے ساتھ جوڑ کر مزید مؤثر بنائیں۔”

اس سے قبل ورکشاپ کی آرگنائزنگ سیکریٹری پروفیسر آسیہ سلطانہ نےسبھی کا استقبال کرتے ہوئے بتایا کہ اس ورکشاپ کا مقصد مختلف طبی نظاموں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ وہ اپنے تجربات اور تحقیقات کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ “اس طرح کے علمی مکالمے نہ صرف تحقیق کو فروغ دیتے ہیں بلکہ عملی سطح پر صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔”انھوںنےمزیدکہاکہنے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمیشہ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے اور اس طرح کی ورکشاپس نہ صرف طلبہ اور محققین کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں بلکہ سماج میں صحت سے متعلق بیداری پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “وکست بھارت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے صحت کے شعبے میں مضبوط اور ہمہ گیر نظام کی ضرورت ہے، جس میں روایتی طب کا کردار انتہائی اہم ہے۔”

پروگرام سے اجمل خان طبیہ کالج کے پرنپسل پروفیسر بدر الدجی خان، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے ڈین پروفیسر سید ایس ایم اشرف اور پروفیسر محمد انور نے بھی خطاب کرتے ہوئے موضوع کی مناسبت سے اظہارخیال کیا۔

ورکشاپ کے دوران ماہرین نے مختلف سیشنز میں اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے اور اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ کس طرح یونانی اور دیگر روایتی طریقۂ علاج کو جدید طبی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کر کے عوام کو بہتر صحت خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس دوران بڑی تعداد میں ملک بھر سے آئے ماہرین نے شرکت کی ۔۔۔۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande