
نئی دہلی، 30 اپریل (ہ س)۔ مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان ،خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 123 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 109 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا ہے۔
بین الاقوامی بازار میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ درج کیا گیا۔ برینٹ کروڈ آئل 4.98 ڈالر یعنی 4.22 فیصد کی تیزی کے ساتھ 123 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کر رہا ہے، جو کہ 2022 میں روس-یوکرین جنگ کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ وہیں ، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ بھی 2.07ڈالر یعنی 1.94فیصد تیزی کی تیزی کے ساتھ 109ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری تعطل اور ایرانی بندرگاہوں اور برآمدات پر امریکہ کی طویل ناکہ بندی کی تشویش کے سبب عالمی تیل کی سپلائی کے متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر خام تیل کی قیمتوں میں یہ شدید اچھال آیا ہے۔ دنیا کے خام تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جس پر فی الحال بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں اسی شرح سے بڑھتی رہیں، تو اس کا اثر معیشت اور کارپوریٹ منافع پر نظر آنے لگے گا۔ خام تیل کی قیمت چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد