راگھو چڈھا نے عام آدمی پارٹی کے ہائی کمان پر اٹھائے سوال،کہا - میری خاموشی کومیری ہار مت سمجھ لینا
چنڈی گڑھ، 3 اپریل (ہ س)۔ راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹائے جانے سے پریشان ایم پی راگھو چڈھا نے پارٹی ہائی کمان کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے سوال اٹھائے ہیں۔ آپ نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو راگھو کی جگہ اشوک متل کو مقرر
raghavchadha-aap-rajaysbha-


چنڈی گڑھ، 3 اپریل (ہ س)۔ راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹائے جانے سے پریشان ایم پی راگھو چڈھا نے پارٹی ہائی کمان کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے سوال اٹھائے ہیں۔ آپ نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو راگھو کی جگہ اشوک متل کو مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔ متل جالندھر میں لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے بانی ہیں۔ راگھو 2024 کے پنجاب اسمبلی انتخابات کے دوران آپ کا ایک نمایاں چہرہ تھے۔ وہ کچھ عرصے سے پنجاب کی سیاست سے غائب ہیں۔

راگھو چڈھا نے آج صبح ایک ویڈیو جاری کیا۔ اس میں وہ یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ” خاموش کروایا گیا ہوں، ہارا نہیں ہوں۔مجھے جب جب بولنے کا موقع ملتا ہے،تو میں عام آدمی کے مسائل کو اٹھاتا ہوں۔پارلیمنٹ میں ایسے مدعوں پر بات کرتا ہوں،جنہیں عام طور پر ایوان میں نہیں اٹھایا جاتا۔“

انہوں نے سوال کیا کہ عوامی مسائل اٹھانا، عوامی مسائل پر بات کرنا جرم ہے؟ کیا میں نے کوئی جرم کیا ہے، کوئی غلطی کر دی ہے؟ چڈھا نے کہا کہ میں یہ سوال اس لیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو یہ لکھ کر دیا ہے کہ راگھو چڈھاکے ایوان میں بولنے پر پابندی عائد کر دی جائے۔ بولنے کا موقع نہ دیا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کوئی میرے بولنے سے کیوں روکنا چاہتا ہے۔ جب میں بات کرتا ہوں تو ملک کے عام آدمی کے لیے بولتا ہوں۔ پارلیمنٹ میں میں نے ہوائی اڈے پر مہنگے کھانے کا مسئلہ اٹھایا، ٹول اور بینک لوٹ کا معاملہ اٹھایا۔ متوسط طبقے کے ساتھ ہو رہی لوٹ مار پر بحث کی، ٹیلی کام کمپنیاں کیسے 12 ماہ میں 13 بار ریچارج کرواتی ہیں، وغیرہ پر چرچا کی۔

انہوں نے کہا، ”اس مدعے کو اٹھانے سے عام آدمی کو فائدہ ہوا، لیکن عام آدمی پارٹی کو کیا نقصان ہوا؟ کوئی میری آواز کو کیوں بند کرنا چاہے گا؟ آپ لوگ مجھے بے پناہ محبت دیتے ہیں، آپ مجھے حوصلہ دیتے ہیں، ایسے ہی میرا ہاتھ اور میرا ساتھ تھامے رکھئے گا۔ چھوڑیئے نہیں۔ میں آپ میں سے ہوں، آپ کے لئے ہوں۔ جن لوگوں نے پارلیمنٹ میں بولنے کا حق چھین لیا، ان کے لئے کہنا چاہوں گا کہ میری خاموشی کو میری ہار مت سمجھ لینا، میں وہ دریا ہوںجو وقت آنے پر سیلاب بنتا ہے۔“

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande