
ریاض،03اپریل(ہ س)۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے اس مشہور بیان کے تناظر میں کہ ایران نے ان مجرمانہ حملوں کی منصوبہ بندی پہلے سے کر رکھی تھی، یہ رویہ اتفاقیہ نہیں بلکہ بلیک میلنگ پر مبنی تاریخی ریکارڈ کا تسلسل ہے، ریاض نے بیجنگ معاہدے کی خلاف ورزی پر تہران کی شدید مذمت کی ہے۔سعودی حکام کے مطابق ایران نے ان ممالک کو نشانہ بنایا جو اس جاری تنازع کا حصہ ہی نہیں تھے، جس سے اس پر علاقائی و عالمی اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔
ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی فوجی مہم کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود، ایرانی نظام سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بلیک میلنگ کے سامنے ریاض نے ضبطِ نفس، سفارتی حل اور استحکام کو ترجیح دی ہے اور ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے جنگ میں گھسیٹے جانے کے بجائے خود کو اس تنازع سے دور رکھا ہے، حالانکہ اسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔سیاسی محقق یوسف الدینی کے مطابق، ایران نے یہ صورتحال پیدا کی کہ یا تو اس کی دھمکی مانی جائے یا جنگ میں کودا جائے۔ سعودی عرب نے اس کے برعکس تیسرا راستہ اپنایا بغیر اشتعال کے عدم قبولیت۔ مملکت نے اپنا داخلی استحکام برقرار رکھا، معاشی منصوبے جاری رکھے اور ہوا بازی و توانائی کا مرکز بنی رہی، جس سے ایران کا نفسیاتی اور معاشی اثر و رسوخ کا حربہ ناکام ہو گیا۔لدینی مزید کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے محض دفاع پر اکتفا نہیں کیا بلکہ روک تھام کی طاقت کے تصور کو بدل دیا۔ اب یہ براہ راست جوابی کارروائی کے بجائے ایران کے لیے اس رویے کی سیاسی و معاشی قیمت بڑھانے پر مبنی ہے۔ سعودی عرب اسے محض ایک عارضی بحران نہیں بلکہ ایرانی جمہوریہ کے اس تزویراتی رویے کا حصہ سمجھتا ہے جس میں وہ مکمل جنگ کے بغیر اپنے حریفوں کے لیے استحکام کی قیمت بڑھاتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کی زبان میں سعودی عرب نے لچک دار دفاع اور تزویراتی صبر کا راستہ چنا ہے۔ ریاض نے فوری عسکری رد عمل کے بجائے فعال روک تھام کی پالیسی اپنائی، جس سے دشمن کو وہ کھلی جنگ نہیں مل سکی جس کے ذریعے وہ لڑائی کے قواعد اپنے حق میں بدلنا چاہتا تھا۔ گذشتہ دو دنوں میں سعودی دفاعی نظام نے ریاض اور مشرقی علاقوں کی طرف داغے گئے 5 سے زائد بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے، جبکہ برطانیہ اور یونان کے ساتھ دفاعی ہم آہنگی جاری ہے۔
گذشتہ ماہ مارچ میں بیجنگ معاہدے کو ابھی چار سال بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ تہران نے اس کی خلاف ورزی کر دی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے ذریعے اپنی تنہائی اور پابندیوں کا بوجھ کم کرنے کا ایک تاریخی موقع گنوا دیا ہے۔ ڈاکٹر خالد الہباس کے مطابق، تہران حسنِ ہمسائیگی اور بین الاقوامی قوانین کی پرواہ کیے بغیر خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ڈاکٹر الہباس کا کہنا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی فوجی مہم شروع ہوتے ہی ایران نے تنازع کو بین الاقوامی رنگ دینے اور جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کی تاکہ دنیا اور خلیجی ممالک کے ذریعے امریکہ پر دباو¿ ڈال کر جنگ رکوائی جا سکے۔ خلیجی ممالک اس ایرانی چال کو سمجھتے ہیں، اسی لیے انہوں نے مشترکہ ہم آہنگی سے ایران کو یہ موقع نہیں دیا۔ریاض کی پالیسی توازن اور سیاسی حکمت پر مبنی رہی ہے جس نے اسے جنگ کی آگ میں گرنے سے بچایا۔ خلیجی ممالک نے اس بحران میں چار بنیادوں پر کام کیا : جدید دفاعی صلاحیتیں، مشترکہ عسکری و سیاسی تعاون، دوست ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی فعالیت اور مضبوط عالمی سفارت کاری۔
سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی منظوری سعودی سفارت کاری کی بڑی کامیابی ہے جس نے ایران کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔سعودی عرب کا موقف واضح ہے کہ ایران کو اپنے غلط حساب کتاب پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مطابق، پڑوسیوں پر حملوں سے ایران کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی مشکلات اور تنہائی میں اضافہ ہوگا۔ سعودی عرب خطے کے استحکام کے لیے تمام قانونی اقدامات اور عالمی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan