وکست بھارت 2047@ کے تناظر میں پریم چند پر گفتگو نہایت اہم: پروفیسر جتندر سریواستوا
پریم چند کا فنی رویہ انسانی حسیت سے عبارت ہے: پروفیسر انور پاشا ،پریم چند کے تصور حسن کی معنویت کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت: پروفیسر محمد علی جوہر نئی دہلی،29اپریل (ہ س )۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹ
وکست بھارت 2047@ کے تناظر میں پریم چند پر گفتگو نہایت اہم: پروفیسر جتندر سریواستوا


پریم چند کا فنی رویہ انسانی حسیت سے عبارت ہے: پروفیسر انور پاشا ،پریم چند کے تصور حسن کی معنویت کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت: پروفیسر محمد علی جوہر

نئی دہلی،29اپریل (ہ س )۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے باہمی اشتراک سے 'پریم چند کا ادب: نئے تناظر میں” کے عنوان سے نہرو گیسٹ ہاو¿س، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کمیٹی روم میں یک روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں پریم چند کی تخلیق، ادب اور فکر پر مرکوز خطبات اور مقالات پیش کیے گئے۔

سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد علی جوہر(سابق چیئرمین، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کی۔ انھوں نے ایک اہم موضوع پر سمینار کے انعقاد کے لیے مبارکباد پیش کی اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پریم چند کے ادبی کارناموں کی سیر کرتے ہوئے ہمیں مایوسی کے بجائے حد درجہ خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ 'ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا' جیسا پریم چند کا معروف جملہ نہایت گہرا اور معنی خیز ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ فکشن کے حوالے سے پریم چند کی شخصیت گراں قدر ہے۔ قومی کونسل نے پریم چند کی تخلیقات کو 24 جلدوں میں شائع کرکے ایک تاریخی دستاویز فراہم کیا ہے۔ اسی طرح پریم چند کی تفہیم و تنقید سے متعلق مختلف کتابیں بھی کونسل سے شائع ہوئی ہیں۔ آج پریم چند کو نئے زاویے سے پڑھنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ ادب کے میدان میں ان کی خدمات غیر معمولی ہیں۔

تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر شہزاد انجم (جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے پریم چند سے متعلق پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پریم چند ہندوستانی ادب، تہذیب اور معاشرے کا ایک روشن چہرہ ہے۔ آج پریم چند کو نئے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ موضوع اور اسلوب کی سطح پر پریم چند کے یہاں حب الوطنی کے جذبات نمایاں ہیں۔ انھوں نے میدانی سطح پر کام کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کی تحریک کا بھی ساتھ دیا اور معاشرتی برائیوں کو اجاگر کیا۔ پریم چند کے ادبی متون کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔

سمینار کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر انور پاشا (سابق چیرمین سی آءایل، جے این یو) نے پریم چند سے متعلق نہایت پرمغز اور معنی خیز خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ پریم چند اردو اور ہندی میں یکساں طور پر سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں۔ پریم چند کے ذکر کے بغیر فکشن پر کوئی گفتگو شروع نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے اپنے آدرشوادی نقط? نظر کے ذریعہ معاشرے کو بدلنے کی کوشش کی۔ پریم چند کا خیال تھا کہ انسان فطری طور پر برا نہیں ہوتا، بعض عوامل اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جنھیں دور کرکے اسے بدلا جا سکتا ہے۔ پریم چند کا فن اور فنی رویہ انسانی حسیت سے عبارت ہے۔ پریم چند نے پہلی مرتبہ اپنی تخلیقات میں طبقاتی کشمکش کو پیش کرتے ہوئے مساوات کو اہمیت دینے کی ضرورت محسوس کی۔

مہمان اعزازی پروفیسر جتندر سریواستوا( رجسٹرار، اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکست بھارت 2047 کے تناظر میں پریم چند کے فکر و فن پر گفتگو نہایت اہم ہے۔ پریم چند پہلے دور اندیش قلم کار ہیں جنھوں نے عورتوں کی تعلیم اور ان کی مساوات کا درس دیا۔ پریم چند وویکا نند سے متاثر تھے اور انھیں کی طرح ملک کو بدحال نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انھوں نے ایک بڑے تخلیق کار کے طور پر معاشرے کو سمجھتے ہوئے اپنا نقط? نظر پیش کیا۔ سماجی بیداری کی زمین ہموار کرنے میں پریم چند نے اہم کردار ادا کیا۔

اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر جاوید حسن (شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کی اور رسم تشکر جناب نایاب حسن(قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان) نے ادا کی۔

افتتاحی اجلاس کے بعد تین اہم تکنیکی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی (چیئرمین، شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) اور پروفیسر ابوبکر عباد(صدر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی) نے کی۔ جس میں پروفیسر حبیب اللہ خاں (پریم چند عالم عرب میں)، پروفیسر احمد امتیاز(پریم چند کا نظری? مصوری)، ڈاکٹر ارشاد نیازی(افسانہ 'کفن' کی ایک اور قر?ت)، ڈاکٹر خالد مبشر(پریم چند کا افسانہ، بازارواد کے تناظر میں) اور جناب سید فیصل ہاشمی (مغربی زبانوں میں پریم چند کے تراجم) نے مقالات پیش کیے۔

دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر ارشاد نیازی (شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی) نے کی۔ اس اجلاس میں پروفیسر محمد علی جوہر(پریم چند کا ایک مضمون ‘قوت بیانیہ کا زوال’)، ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی(جامعہ کا پریم چند آرکائیوز اور ادبی مرکز)، ڈاکٹر رحیل صدیقی(پریم چند اپنی تخلیقات کے آئینے میں)، ڈاکٹر سید محمد عامر (پریم چند کے افسانوں میں نسوانی کردار: نئے تناظر میں)، ڈاکٹر ثاقب عمران (افسانہ پنچایت حق و انصاف کا لازوال بیانیہ) نے مقالات پیش کیے۔

تیسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر کوثر مظہری اور پروفیسر شہزاد انجم نے کی۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر جاوید حسن(پریم چند کے افسانوں میں ڈرامائی عناصر)، ڈاکٹر جے موہن سنگھ (پریم چند کے مضامین:نئے تناظر میں)، ڈاکٹر محمد اسلم(عصر حاضر میں پریم چند کے افسانوں کی معنویت)، ڈاکٹر شاہنواز حیدر شمسی(پریم چند کے افسانوں کی عصری حسیت) اور ڈاکٹر نسیم افضل (پریم چند کے مضامین:ایک مطالعہ) نے مقالات پیش کیے۔

یہ سمینار پریم چند کے فکرو فن کی تفہیم میں اہم کاوش کی حیثیت رکھتا ہے۔ سمینار میں مختلف یونیورسٹیوں کے مہمان مقالہ نگاروں کے علاوہ ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande