
حیدرآباد ، 25 اپریل (ہ س)۔ تلنگانہ کی سیاست میں ایک بڑی ہلچل مچ گئی ہے،جہاں کلواکنٹلہ کویتا نے ایک نئے سیاسی سفرکا آغاز کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹراسینا” کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔ یہ نام سابقہ بھارت راشٹرا سمیتی (ٹی آرایس) کی پرانی شناخت سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ اس موقع پر کویتا نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ریاست میں ایک نئی انقلابی تبدیلی” لانا ہے،انہوں نے وزیراعلی بننے کی اپنی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ منیرآباد میں منعقدہ پارٹی کے افتتاحی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے خود کو ایک ہمدرد اورعوام دوست رہنما کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ کے عوام کیلئےماں کا کردارادا کرنا چاہتی ہیں، جیسا کہ تمل ناڈو کی سابق وزیراعلیٰ جے للیتا کی قیادت میں دیکھا گیا تھا۔ کویتا نے اپنی سیاسی زندگی پرنظر ڈالتے ہوئے بھارت راشٹرا سمیتی حکومت کے بعض اقدامات پر شرمندگی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ خود حکمران خاندان کا حصہ رہ چکی ہیں، اس لیے ان پر ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، تاہم تلنگانہ ریاست کے قیام کی تحریک میں اپنے کردارپرانہوں نے فخر کا اظہار بھی کیا۔ کویتا نے کہا کہ ریاست کے قیام کے بعد عوام کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق، کسان آج بھی مسائل کا شکار ہیں اورترقی کی رفتاربھی امیدوں کے مطابق نہیں رہی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست میں نگرانی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا، جہاں لوگوں کو اپنے فون تک ٹریک ہونے کا خوف لاحق تھا۔ اپنے والد اورسابق اوروزیراعلی کے چندرشیکھرراؤ پر تنقید کرتے ہوئے، کویتا نے کہا کہ وہ وقت کے ساتھ بدل گئے ہیں اورعوام سے ان کا جذباتی تعلق کمزورہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اقتدارمیں آنے کے بعد وہ عوامی مسائل سے دورہوگئے ہیں۔ ساتھ ہی، کویتا نے موجودہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور کانگریس حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت کوسخت اور بے رحم قراردیتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کو نظراندازکیا جا رہا ہے اور کئی مواقع پر انتظامیہ ناکام نظر آئی ہے۔ کویتا نے بی جے پی، کانگریس اور بی آرایس تینوں بڑی جماعتوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان کی نئی پارٹی ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آئے گی، اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق