
واشنگٹن،24اپریل(ہ س)۔واشنگٹن میں اسرائیل کے سفیر یحیئیل لایٹر اور امریکہ میں لبنانی سفیرہ ندی معوض کے درمیان وائٹ ہاوس میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام پر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ ملاقات انتہائی کامیاب رہی اور امریکہ حزب اللہ کے خلاف لبنان کی مدد کرے گا۔ وائٹ ہاو¿س میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدے کا بہت بڑا موقع ہے اور وہ آئندہ ہفتوں میں لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کی توقع کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ ایران کو حزب اللہ کی مالی امداد بند کرنی چاہیے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جنگ بندی میں توسیع کو ایک اہم تاریخی لمحہ قرار دیا، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ لبنان اور اسرائیل دونوں امن چاہتے ہیں اور وہ حزب اللہ کے مظالم کا شکار ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چند ہفتوں میں دونوں ممالک پائے دار امن کے قریب ہوں گے۔اسرائیلی سفیر یحیئیل لایٹر نے جلد امن کے قیام کی امید ظاہر کی، جبکہ لبنانی سفیرہ ندی معوض نے صدر ٹرمپ کی میزبانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی تعاون سے لبنان کو دوبارہ عظیم بنایا جا سکتا ہے۔ اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی واضح کیا کہ اصل مسئلہ لبنان اور اسرائیل نہیں بلکہ حزب اللہ ہے۔یہ مذاکرات کا دوسرا دور تھا جس میں امریکی نائب صدر، وزیر خارجہ اور لبنان کے لیے امریکی سفیر مشال عیسیٰ بھی شریک تھے۔ یاد رہے کہ 1948 سے باقاعدہ حالتِ جنگ میں موجود دونوں ممالک کے درمیان 14 اپریل کو واشنگٹن میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، جو 1993 کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے۔ اس سے قبل 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے دوران دونوں جانب سے خلاف ورزیوں کے باوجود مذاکراتی عمل جاری رہا۔امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے شائع کردہ جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے حکومت پر رعائتیں دینے کا الزام لگایا ہے۔ تاہم لبنانی حکام کا موقف ہے کہ جنگ و امن اور مذاکرات کا فیصلہ صرف ریاست کا اختیار ہے تاکہ ملک کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan