
تہران،24اپریل(ہ س)۔ایرانی میڈیا نے جمعرات کو تہران کی فضاوں میں دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کے متحرک ہونے کی اطلاع دی۔ یہ اس وقت ہوا جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بہت ہی کم پیش رفت ہو رہی ہے۔وائرل ویڈیوز میں شہر کی فضاو¿ں میں فضائی دفاعی نظام کو متحرک ہوتے دکھایا گیا ہے۔ ایرانی ایجنسی مہر نے فضائی دفاع کی جانب سے ان اہداف کا مقابلہ کرنے کی بات کی ہے جنہیں تہران کے مغرب میں دشمن قرار دیا گیا ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے ایران پر حملے کرنے کی تردید کردی۔ یہ بات اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے نقل کی۔ برطانوی خبر ایجنسی ” رائٹرز کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اس وقت ایران پر حملے نہیں کر رہا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کی گئی جنگ رک گئی تھی لیکن اسرائیل نے آج دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائ?ل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے جس کا مقصد ایران کے معاشی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنا اور اس کی اعلیٰ قیادت کا خاتمہ کرنا ہے۔
یسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل اس وقت امریکہ کی طرف سے گرین سگنل کا منتظر ہے۔ اسرائیلی فوج کے بیان میں کاٹز کے حوالے سے کہا گیا کہ اسرائیل ایران پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی فوج دفاع اور حملے کے لیے تیار ہے اور اہداف کا تعین کر لیا گیا ہے۔یسرائیل کاٹز نے یہ دھمکی بھی دی کہ اسرائیل اس بار سخت ترین ممکنہ اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اسرائیل ان کے بیٹے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس طرح تہران کی قیادت کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔یہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے وفود کو مذاکرات کے دوسرے دور کو جاری رکھنے کے لیے اکٹھا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ اب تک مذاکرات کی منسوخی کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ سفارت کار نے کہا کہ یہ معطل ہیں اور ان میں پیش رفت بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے ” العربیہ/الحدث “ کو دیے گئے بیانات میں یہ بھی واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا راستہ حقیقی جمود کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران نے اسلام آباد کو مطلع کیا ہے کہ ناکہ بندی مذاکرات میں اس کی شرکت کے سامنے رکاوٹ ہے۔ واشنگٹن اب بھی ایران پر سمندری ناکہ بندی جاری رکھنے پر بضد ہے۔ پاکستانی سفارت کار نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے تسلسل کے لیے تہران اور واشنگٹن کی جانب سے رعایت دینے کی ضرورت ہے۔
سفارت کار نے کہا ہم ایران کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی سمندری ناکہ بندی میں نرمی کے لیے اسلام آباد آئے۔ واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز جنگ بندی کے آخری گھنٹوں میں ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی اپنی دھمکیاں منسوخ کر دی تھیں لیکن انہوں نے ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جنگ بندی میں توسیع کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی اور مذاکرات کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan