امریکی عہدیدار کا ایران پر آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام
واشنگٹن،24اپریل(ہ س)۔امریکی ویب سائٹ axios نے ایک امریکی عہدے دار اور با خبر ذریعے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے بارودی سرنگی
امریکی عہدیدار کا ایران پر آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام


واشنگٹن،24اپریل(ہ س)۔امریکی ویب سائٹ axios نے ایک امریکی عہدے دار اور با خبر ذریعے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے بارودی سرنگیں بچھانے کے اس عمل کی نگرانی کی ہے اور وہ اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی عہدے دار نے مزید کہا کہ امریکہ ان نئی بچھائی گئی سرنگوں کی تعداد سے واقف ہے، تاہم انہوں نے تعداد بتانے سے گریز کیا۔ ویب سائٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یہ دوسرا موقع ہے جب ایران نے اس گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔اس سے قبل جمعرات کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھلوانے کے لیے ایران پر دباو بڑھاتے ہوئے اپنی بحریہ کو حکم دیا تھا کہ بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو تباہ کر دیا جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر چھوٹی بڑی کشتی کو نشانہ بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے اور امریکی مائن سویپرز اس وقت آبنائے کو صاف کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران اس وقت قیادت کے بحران کا شکار ہے اور امریکہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ راستہ تب تک نہیں کھلے گا جب تک ایران جنگ کے خاتمے کے مستقل معاہدے پر راضی نہیں ہو جاتا۔ دوسری جانب ایران نے بندرگاہوں کے امریکی محاصرے کی موجودگی میں آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کر دیا ہے اور واشنگٹن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ اس دوران اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں کیونکہ ایران نے ابھی تک اپنی شرکت کی تصدیق نہیں کی، جس سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande