
واشنگٹن،22اپریل(ہ س)۔امریکی مسلح افواج نے صرف مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اگلے مالی سال میں ’پیٹریاٹ‘ اور’تھاڈ‘ ایئر ڈیفنس اور میزائل سسٹمز کی خریداری میں بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان کیا ہے۔پینٹاگان میں منعقدہ ایک خصوصی پریس کانفرنس کے دوران جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے بجٹ آفس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسٹیفن وٹنی نے مالی سال سنہ 2027ءمیں ان سسٹمز کی خریداری کے دائرہ کار کو بڑھانے کے ارادے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خریداری امریکی اسٹاک اور ہماری صلاحیتوں کو مزید تقویت دینے کے لیے ہے۔اسی دوران امریکی وزارت جنگ کے قائم مقام انڈر سیکرٹری برائے خزانہ جولز ہرسٹ نے بریفنگ میں شرکت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ اگلے سال کے وفاقی بجٹ کے مسودے میں ’پیٹریاٹ ایڈوانسڈ جنریشن تھری (پی اے سی-3) کی خریداری میں بہت بڑے اضافے کی تجویز دی گئی ہے‘۔ وٹنی کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق پینٹاگون اگلے سال کانگریس سے ’پیٹریاٹ‘ اور ’تھاڈ‘ سسٹمز کی خریداری کے لیے 31.8 ارب ڈالر حاصل کرنے کی توقع کر رہا ہے۔ امریکی وزارت جنگ کے انڈر سیکرٹری برائے خریداری مائیکل ڈفی نے مارچ میں بیان دیا تھا کہ واشنگٹن پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار میں تین گنا اور تھاڈ سسٹم میں چار گنا اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔پینٹاگان ’ٹومہاک‘ میزائلوں، ’امرام‘ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں، 'ایس ایم-6' کثیر المقاصد میزائلوں اور 'ایس ایم 3-اے بی' و 'ایس ایم-3 اے اے بی' ساخت کے دفاعی میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کا خواہش مند ہے۔
امریکہ ایران کے خلاف حالیہ آپریشن کے دوران دفاعی میزائلوں اور دیگر میزائلوں کا سرگرمی سے استعمال کر رہا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگان کو آنے والے دنوں میں اس قسم کے گولہ بارود کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم امریکی انتظامیہ اس بات کی تردید کرتی ہے کہ امریکی مسلح افواج کے اسلحہ خانے کے خالی ہونے کا کوئی خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ کیئف بھی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan