
ایتھنز/ تہران، 22 اپریل (ہ س)۔ یونان کی ملکیت والے ایک مال بردار جہاز پر آبنائے ہرمز کے قریب مبینہ طور پر حملہ کیے جانے کی خبر ہے، حالانکہ اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ آیا اس جہاز کو ایران نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ یونان کے وزیر خارجہ گیورگوس گیراپیٹریس نے مذکورہ معلومات دی۔
سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے گیورگوس گیراپیٹریس نے کہا کہ جہاز پر حملے کی تصدیق ہو ئی ہے تاہم اس کے پکڑے جانے کے حوالے سے صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا اور یونان کی ملکیت والے تمام بحری جہازوں کو فی الحال اس اہم سمندری راستے سے دور ی بنائے رکھنے کا مشورہ دیا۔
وزیر خارجہ کے مطابق، یہ جہاز لائبیریا کے جھنڈے والا تھا لیکن اس کی ملکیت ایک یونانی کمپنی کے پاس تھی اور وہ آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونان نے اپنے تمام بحری جہازوں کو ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ چوکسی اختیار کریں اور علاقے کی آمدورفت سے گریز کریں۔
دریں اثناءایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ( آئی آر جی سی) نے تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جن میں سے دو کو پکڑ کر ایرانی پانیوں میں لے جایا گیا۔ تاہم یونان کے بحری جہاز کے حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد