ٹرمپ نے کہا، جنگ بندی میں توسیع کر رہا ہوں، ایران کی مشترکہ تجویز کا انتظار
واشنگٹن/تہران/اسلام آباد، 22 اپریل (ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بار ایران کے ساتھ غیر متوقع جنگ بندی (سیز فائر) کا اعلان کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایران ایک بار پھر بات چیت کی میز پر لوٹے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات کے لیے کرسی اور میز سج
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ 21 اپریل کو وائٹ ہاوس کے اسٹیٹ ڈائننگ روم میں۔ وہ یہاں این سی اے اے کالجیٹ نیشنل چیمپئنز کے پروگرام میں شامل ہوئے۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


واشنگٹن/تہران/اسلام آباد، 22 اپریل (ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بار ایران کے ساتھ غیر متوقع جنگ بندی (سیز فائر) کا اعلان کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایران ایک بار پھر بات چیت کی میز پر لوٹے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات کے لیے کرسی اور میز سجا چکے پاکستان کو ٹرمپ کے تازہ رخ سے ایران کے بھی نرم پڑنے کی امید ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ’تب تک کے لیے بڑھا رہے ہیں جب تک کہ ان کے رہنما اور نمائندے کوئی ایک مشترکہ تجویز لے کر نہیں آ جاتے۔‘ ان کے اس بیان کو کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ بہت ہو گیا۔ وہ اب جنگ بندی کی مدت کو آگے نہیں بڑھائیں گے۔ اس کے برعکس لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن اور مفاہمت کی بڑی امید پیدا ہوئی ہے۔ دونوں جمعرات کو بات چیت کی میز پر بیٹھنے والے ہیں۔

سی بی ایس نیوز اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ’ایک بہترین معاہدہ ہو جائے گا۔‘ انہوں نے دلیل دی کہ تہران کے پاس امن مذاکرات کے ایک نئے دور میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے، بھلے ہی وہاں کی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اس ہفتے پاکستان میں ہونے والی بات چیت میں شامل ہونے کا اس کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ ناکہ بندی ختم کر دیتا ہے، تو ایران کے ساتھ کبھی کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا۔

صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ ایران سچ مچ نہیں چاہتا کہ آبنائے ہرمز بند ہو۔ امریکہ نے اسے بند کر دیا ہے، اس لیے وہ اپنی عزت بچانے کے لیے فضول کی بات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’چار دن پہلے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور کہا ایران چاہتا ہے امریکہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دے۔ میں نے کہا کہ اگر ایسا کر دوں گا تو ایران کے ساتھ کبھی کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا، جب تک کہ ہم ان کے باقی ملک کو اور ان کے رہنماوں کو اڑا نہ دیں۔‘‘

اسی دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ امریکہ جمعرات کو واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفیر کی سطح کے مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرے گا۔ اہلکار نے کہا، ’’ہم دونوں حکومتوں کے درمیان براہ راست اور نیک نیتی پر مبنی بحث کی سہولت فراہم کرنا جاری رکھیں گے۔‘‘ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی، امریکہ میں اسرائیلی سفیر یچیئیل لیٹر، لبنان میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ، امریکہ میں لبنانی سفیر ناداہ حمادہ اور محکمہ خارجہ کے کونسلر مائیک نیڈہم شامل ہو سکتے ہیں۔ مذاکرات کا پہلا دور 14 اپریل کو ہوا تھا، جس میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔

امریکی صدر کے رخ میں آنے والی تبدیلی کے درمیان یو ایس سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی فوج کی تمام شاخیں جنگ کے لیے تیار ہیں۔ کمانڈ کی ایک ویڈیو کلپ میں لڑاکا طیارے، جہاز اور امریکی فوجی دکھائی دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ کوپر نے پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہم پھر سے ہتھیار جمع کر رہے ہیں۔ ہم خود کو نئے سرے سے تیار کر رہے ہیں اور اپنی حکمت عملی اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’دنیا میں کوئی بھی ایسی فوج نہیں ہے جو ہماری طرح خود کو حالات کے مطابق ڈھال سکے اور جنگ بندی کے اس دور میں ہم ٹھیک یہی کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستان کے حکام کا ماننا ہے کہ امریکہ کے ’رخ میں آئی نرمی‘ کے بعد ایران بھی ویسا ہی جواب دے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے اصل سفارت کاری چل رہی ہے۔ امید ہے ایران بات چیت کی میز پر واپس آئے گا۔ ادھر، پاکستان نے امن مذاکرات کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے ہیں۔ دارالحکومت اسلام آباد میں اسکول اور دفاتر بند ہیں۔ ریڈ زون کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ ثالثوں کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ایسا ماحول بنایا جا سکے جہاں دونوں فریق آکر آپس میں بات چیت کر سکیں۔ پاکستان دونوں فریقین کو مشترکہ مسائل پر ایک ساتھ لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande