پولیس حراست میں نوجوان کی موت، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار
نئی دہلی، 20 اپریل (ہ س)۔ شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں پولیس حراست میں ایک نوجوان کی موت ہو گئی۔ دہلی پولیس نے کہا ہے کہ پورے معاملے میں شفافیت برقرار رکھی جا رہی ہے اور موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ ش
Jahangirpuri-man-died-in-polic


نئی دہلی، 20 اپریل (ہ س)۔ شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں پولیس حراست میں ایک نوجوان کی موت ہو گئی۔ دہلی پولیس نے کہا ہے کہ پورے معاملے میں شفافیت برقرار رکھی جا رہی ہے اور موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔

شمال مغربی ضلع کی ڈپٹی کمشنر آف پولیس آکانکشا یادو نے پیر کو بتایا کہ 19 اپریل کی رات گشت کے دوران ایک شخص کو مشتبہ حالات میں گھومتے ہوئے پایا گیا۔ اسے صبح ساڑھے تین بجے پوچھ گچھ کے لیے جہانگیر پوری پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ تھانے میں رہنے کے دوران اس شخص نے کچھ تکلیف کی شکایت کی جس کے بعد اسے پانی دیا گیا۔ کچھ دیر بعد اس کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور ا سے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ اس شخص کی درخواست پر اسے فوری طور پر بابو جگجیون رام اسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ تحقیقات نے متوفی کی شناخت انیش (34) کے طور پر کی ہے۔ وہ بھلسوا ڈیری میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا اور اپنے والد کے ساتھ آزاد پور سبزی منڈی میں کام کرتا تھا۔ وہ شادی شدہ تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طبی معائنے میں کوئی بیرونی زخم یا حملہ کے آثار نہیں ملے۔ تھانے میں موجود پولیس افسران اور سنتری نے بھی کسی قسم کے تشدد سے انکار کیا ہے۔ ابتدائی طبی رائے سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوان کی موت پانی کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ متوفی پہلے سے بیمار تھا اور شراب نوشی کا عادی تھا۔ اہل خانہ کے مطابق وہ پچھلے کچھ دنوں سے کثرت سے شراب نوشی کرتا تھا۔ تاہم پولیس حراست میں اس موت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ عام طور پر ایسے معاملات میں مکمل تفتیش کی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی کی جا رہی ہے اور کیس کی تفتیش جاری ہے۔لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہوسکے گی۔ فی الحال پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوو¿ں کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande