
نئی دہلی، 20 اپریل (ہ س) ۔ بھارت اور جنوبی کوریا نے اپنے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) کو اپ گریڈ کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تجارتی رکاوٹوں کے درمیان دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کو ایک نئی سمت دینا ہے۔ یہ اعلان پیر کے روز دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے درمیان دو طرفہ بات چیت کے بعد کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور دیگر اہم معاہدوں کا بھی تبادلہ ہوا۔
وزیر اعظم مودی نے حیدرآباد ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا، چپس سے لے کر شپس ( پانی کے جہازوں) تک، ٹیلنٹ سے لے کر ٹیکنالوجی تک، اینٹرٹینمنٹ سے لے کر اینرجی تک-بھارت اور کوریا مل کر نئے مواقع پیدا کریں گے۔ اس دورے کو دو طرفہ تعلقات کے لیے اہم موڑ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی شراکت داری کو مستقبل پر مبنی سمت میں لے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ بھارت اور جنوبی کوریا کے درمیان دو طرفہ تجارت اس وقت تقریبا 27 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس کا ہدف 2030 تک اسے بڑھا کر 50 ارب ڈالر کرنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دونوں ممالک نے انڈیا-کوریا فنانشل فورم کے قیام سمیت کئی اہم اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے انڈیا-کوریا ڈیجیٹل برج پہل کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔
دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور کوریا کے درمیان ہزاروں سال پرانے تاریخی تعلقات ہیں۔ ایودھیا کی شہزادی سوری رتنا اور کوریا کے بادشاہ کم سورو کی داستان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اسے مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوریائی پاپ کلچر اور سیریل بھارت میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ کوریا میں ہندوستانی سنیما اور ثقافت کے لیے دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ دونوں ممالک نے 2028 میں انڈیا-کوریا فرینڈشپ فیسٹیول کے انعقاد کا بھی اعلان کیا، جو ثقافتی تبادلوں کو مزید فروغ دے گا۔
عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی امن اور استحکام کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور کوریا ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے ایک مشترکہ نظریہ رکھتے ہیں اور علاقائی امن، استحکام اور جامع ترقی کے لیے مل کر کام کریں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا کہ دونوں ممالک کا مقصد 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 50 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ وہاں امن و استحکام کی بحالی عالمی معیشت اور سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ صدر لی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان الیکٹرانک ادائیگی کے نظام کو جوڑنے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے شہریوں کو ایک دوسرے کے دوروں کے دوران مقامی کیو آر کوڈز کے ذریعے ادائیگی کرنے کی اجازت ہوگی۔
دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی فورموں میں تعاون بڑھانے اور عالمی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششیں ضروری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد