
نئی دہلی، 20 اپریل (ہ س)۔ نوئیڈا صنعتی علاقے میں مزدوروں کے احتجاج پر وکلا کی ملک گیر تنظیم آل انڈیا لائرز یونین (اے آئی ایل یو) کی طرف سے طلبا اور نوجوان تنظیموں کے ساتھ مل کر تشکیل دی گئی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے اپنی رپورٹ کی ہے۔ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اب تک گرفتار افراد کے بارے میں کوئی باضابطہ معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، اس معاملے میں تقریباً آٹھ سو افراد کے علاوہ تقریباً ساڑھے تین سو نابالغوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
اے آئی ایل یو کے دہلی ریاستی سکریٹری سنیل کمار کی دستخط شدہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 13 اور 14 اپریل کو پولیس نے سڑک کے کنارے کھڑے کئی بے گناہ لوگوں کو اٹھا لیا۔ ان میں سے کئی بچے اپنی ٹیوشن کلاسوں سے واپس آ رہے تھے، کچھ بازار سے سامان خرید رہے تھے، کچھ تعمیراتی مزدور وں کو دوپہر کا کھاتے ہوئے حتٰی کہ بازار میں دوائیں اور کپڑے خریدتے ہوئے کچھ مرد و خواتین کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاریاں سادہ لباس میں پہنچے پولیس اہلکاروں نے کی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے کئی ورکرز کو ان کے کام کی جگہوں سے 15 سے 17 اپریل کے درمیان گرفتار کیا گیا۔ بہت سے مزدور ایسے تھے جو صبح اپنے کام پر پہنچے تو انہیں فیکٹری یاکام کی جگہ پر پہنچنے سے قبل انتظامیہ کے اہلکاروں کے کہنے پر پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ان میں سے بہت سے کارکن ایسے تھے جنہیںان کے مینیجرز نے کام کی جگہ پر بلایا تھا۔ رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ انہیں گرفتار کیا گیا، ان کے اہل خانہ کو اطلاع بھی نہیں دی گئی اور انہیں گرفتار کرکے کہاں لے جایا گیا اور کہاں رکھا گیا ہے، اس کی بھی اطلاع نہیں دی گئی ۔ ان کی گرفتاری کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق،کئی کارکنوں کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 151 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ گرفتار کارکنوں کے اہل خانہ ان کی تلاش میں تھانے سے لے کر کاسنا جیل تک کے چکر لگا رہے ہیںلیکن ان کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے ۔ کئی کارکنوں کو تاحال رہا نہیں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ نوئیڈا پولیس نے کارکنوں سے نمٹنے میں آئینی دفعات کی خلاف ورزی کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد