
تہران، 2 اپریل (ہ س)۔ ایران کے شمال مغربی صوبے مغربی آذربائیجان میں خفیہ ایجنسیوں نے جاسوسی کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق الگ الگ کارروائیوں کے دوران ایک جاسوس اور متعدد دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کارروائیوں کے دوران، امریکہ اور اسرائیل میں تیار کردہ جدید جاسوسی اور مواصلاتی آلات کی ایک بڑی کھیپ پکڑی گئی۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس فورسز نے ملک کے شمال مغربی صوبے مغربی آذربائیجان میں مختلف کارروائیوں میں ایک جاسوس اور متعدد دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ جدید جاسوسی اور مواصلاتی آلات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی۔
ایران کی وزارت انٹیلی جنس کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، فورسز نے جاسوسی اور مواصلاتی آلات کی ایک بڑی کھیپ کا سراغ لگایا، جس میں امریکہ اور اسرائیل میں تیار کردہ آلات کے 45 ٹکڑے تھے۔ یہ آلات اس کی شمال مغربی سرحدوں کے ذریعے ملک میں سمگل کیے جا رہے تھے۔ یہ سامان ملک بھر میں تعینات جاسوسوں میں تقسیم کرنا تھا۔
اسکے علاوہ ایرانی انٹیلی جنس فورسز نے کامیابی کے ساتھ آٹھ دہشت گردوں کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کرلیا۔ ان میں سے چار دہشت گردوں نے پیران شہر میں ایک دہشت گرد سیل (گروپ) قائم کر رکھا تھا اور وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ ایرانی فوجی اڈوں کے رابطہ کار کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کر رہے تھے۔ باقی دہشت گردوں کو ارمیا اور اوشناویہ کے شہروں میں تلاش کیا گیا اور انہیں وہاں سے گرفتار کیا گیا۔
ایک متعلقہ پیش رفت کے تحت امریکہ اور اسرائیل کی ایماء پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ایک شخص کو پیران شہر سے گرفتار کیا گیا۔ وہ ایران کے اندر حساس مقامات سے متعلق انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کر رہا تھا۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور کئی فوجی کمانڈروں کی موت ہو گئی۔ جوابی کارروائی میں ایران نے مغربی ایشیا میں واقع امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈوں پر جوابی میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بالواسطہ بات چیت جاری تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد