حیدرآباد میں شدید گرمی کی لہر،عوامی صحت کیلئے خطرہ کی گھنٹی
حیدرآباد ، 2 اپریل (ہ س)۔ شہرحیدرآباد میں شدید گرمی کی لہرنے عوامی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ درجہ حرارت مسلسل 40 ڈگری یا اس سے زائد پہنچنے کے باعث ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور دیگرگرمی سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
حیدرآباد میں شدید گرمی کی لہر،عوامی صحت کیلئے خطرہ کی گھنٹی


حیدرآباد ، 2 اپریل (ہ س)۔

شہرحیدرآباد میں شدید گرمی کی لہرنے عوامی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ درجہ حرارت مسلسل 40 ڈگری یا اس سے زائد پہنچنے کے باعث ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور دیگرگرمی سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ اطراف کے اضلاع میں بھی لوگ ان مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔شہر کے مقامی کلینکس، نرسنگ ہومز اوربڑے ہاسپٹلوں، بشمول فیورہاسپٹل میں مریضوں کی نوعیت میں واضح تبدیلی دیکھی جارہی ہے، جہاں گرمی سے متعلق بیماریوں اور آبی انفیکشنزکے کیسزمیں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق موسم میں اچانک تبدیلیاں انسانی جسم کو متاثر کررہی ہیں۔ دوپہرکے وقت شدید گرمی جبکہ شام میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ ٹھنڈی ہوائیں چلنے سے جسم کو ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں دشواری پیش آرہی ہے۔

اسی وجہ سے سرکاری و خانگی ہاسپٹلوں میں ہیٹ ایکزاسشن اورپانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے کیسزبڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے باعث کھانے پینے کی اشیاء جلد خراب ہو جاتی ہیں اورلوگ مناسب مقدار میں پانی نہیں پی پاتے، جس کے نتیجے میں شدید اسہال اور ڈی ہائیڈریشن کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

خاص طور پر بچے، حاملہ خواتین اور پہلے سے بیماریوں جیسے دل کے امراض یا ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد زیادہ خطرے میں ہیں۔

ماہرین نے والدین کو ہدایت دی ہے کہ اگر بچوں کو قے یا کمزوری کی شکایت ہوتوانہیں فوری طورپرٹھنڈی جگہ پر منتقل کریں اور وقفے وقفے سے اوآرایس یا ناریل پانی دیں۔

ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ بازار میں دستیاب میٹھے مشروبات کو اوآرایس کے طورپراستعمال نہ کریں کیونکہ ان میں زیادہ چینی ہونے سے دستوں کی شدت بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین صحت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گرمی کے اس موسم میں احتیاط برتیں، زیادہ پانی پئیں، صاف اورتازہ غذا استعمال کریں اور دھوپ میں غیر ضروری نکلنے سے گریز کریں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande