امریکہ اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم خریداری کا معاہدہ منسوخ ہوسکتا ہے
برن، 2 اپریل (ہ س)۔ سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے درمیان دفاعی معاہدے پر غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ سوئس وزیر دفاع مارٹن فسٹرنے عندیہ دیا ہے کہ ترسیل میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے حکومت یو ایس پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری منسوخ کرنے پر غور کر سکتی
SWITZERLAND-AMERICA-Patriot-Air-Defense-System-Dea


برن، 2 اپریل (ہ س)۔ سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے درمیان دفاعی معاہدے پر غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ سوئس وزیر دفاع مارٹن فسٹرنے عندیہ دیا ہے کہ ترسیل میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے حکومت یو ایس پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری منسوخ کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور ادائیگیوں کے مسائل پر تناؤ بڑھ رہا ہے۔

سوئس براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی ایک شاخ ایس ڈبلیو آئی نے خبر رساں ادارے اے ٹی ایس-کی-اسٹون کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیر دفاع مارٹن فسٹر نے خبردار کیا ہے کہ سوئس حکومت امریکی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری منسوخ کر سکتی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ یہ قدم فضائی دفاعی نظام کی فراہمی میں نمایاں تاخیر کی وجہ سے اٹھایا جا رہا ہے۔ تاخیر کی صورت میں معاہدے کی منسوخی ہمیشہ ایک متبادل ہوتی ہے۔

اس سے قبل بدھ کو وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ نے پہلے ہی سسٹم کے لیے ادائیگیاں روک دی ہیں، لیکن گزشتہ ہفتے، حکومت نے تصدیق کی کہ امریکہ ایف-35 لڑاکا طیاروں کے لیے سوئس ادائیگیوں کو پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کے اکاو¿نٹ میں منتقل کر کے اس روک کو درکنار کر رہاتھا۔

سوئٹزرلینڈ نے 2022 میں پانچ پیٹریاٹ سسٹمز کا آرڈر دیا تھا۔ ڈلیوری اس سال شروع ہونے والی تھی اور 2028 تک مکمل ہو جائے گی۔ تاہم، گزشتہ جولائی میں، حکومت نے اعلان کیا کہ امریکی محکمہ دفاع نے اسے مطلع کیا تھا کہ یوکرین کو مزید امداد فراہم کرنے پر واشنگٹن کے اصرار کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ کو ترسیل میں تاخیر ہو گی۔ سوئٹزرلینڈ نے ابتدائی طور پر پچھلے سال سسٹمز کے لیے اپنی ادائیگیاں معطل کر دی تھیں۔

سوئس وزیر دفاع نے کہا،”ہم اب بھی پرامید ہیں کہ ہمیں ڈلیوری ملے گی، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ کب۔ حکومت کئی مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ڈیل کو منسوخ کرنا ان میں سے ایک آپشن ہے، لیکن ہمیں ابھی شرائط کا علم نہیں ہے۔“

پچھلے ہفتے، سوئس حکومت نے اطلاع دی تھی کہ امریکہ نے پیٹریاٹ سسٹم کے لیے ادائیگیوں پر پابندی کو نظرانداز کر دیا ہے اور اسی فنڈ سے رقم نکال لی ہے۔ یہ فنڈ اصل میں ایف-35اے لڑاکا طیاروں کے بیڑے کی خریداری کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاہم، سوئس وزارت دفاع نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اگر فنڈ میں رقوم ایک خاص حد سے نیچے آتی ہیں، تو مزید کمی پراجیکٹس کی عارضی معطلی یا منسوخی کا باعث بن سکتی ہے۔

وزارت نے خبردار کیا کہ اس سے نہ صرف پیٹریاٹ سسٹمز کی خریداری متاثر ہو سکتی ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ جاری غیر ملکی فوجی فروخت پروگرام کے تحت سوئٹزرلینڈ کا پورا دفاعی پورٹ فولیو بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ریاستہائے متحدہ نے کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں سوئٹزرلینڈ کو اس عمل کے اگلے مراحل، ترسیل کے نظام الاوقات، اور کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے اخراجات اور نتائج کے بارے میں مطلع کرے گا۔

وزارت کے ایک بیان کے مطابق اس معاملے پر ایک سفارش حکومت کو ”جون 2026 کے آخر تک“ پیش کی جائے گی۔ مارچ کے اوائل میں، اس نے پیٹریاٹ سسٹم کی تکمیل کے لیے ایک اضافی طویل فاصلے کی سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کی خریداری کے اپنے ارادے کا اعلان کیا۔

پچھلے مہینے، حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ اب وہ صرف 30 ایف -35ایف لڑاکا طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے، بجائے اس کے کہ 36 کا آرڈر دیا جائے۔ یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے گزشتہ سال اعلی افراط زر اور خام مال اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے طیاروں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande