مالدہ تشدد پر الیکشن کمیشن سخت، پولیس ڈائریکٹر جنرل سے رپورٹ طلب
کولکاتا، 2 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل مالدہ ضلع میں ووٹر فہرستوں پر ہونے والے احتجاج پر انتخابی کمیشن نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کمیشن نے ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس سدھاناتھ گپتا سے واقعہ پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ ذرائع کے
Ec-report-dgp-wb-malda


کولکاتا، 2 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل مالدہ ضلع میں ووٹر فہرستوں پر ہونے والے احتجاج پر انتخابی کمیشن نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کمیشن نے ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس سدھاناتھ گپتا سے واقعہ پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ ذرائع کے مطابق کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سوجے پال کو بھی واقعہ کی اطلاع دے دی گئی ہے۔

بدھ کو مالدہ کے کئی علاقوں بشمول موتھا باڑی اور سوجاپور سمیت کئی علاقوں میں ووٹر فہرستوں سے نام ہٹائے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کشیدگی پھیل گئی۔ اقلیتی برادری کے سینکڑوں مظاہرین نے کولکاتا- سلی گوڑی قومی شاہراہ نمبر 12 کو بلاک کر دیا اور کلیا چک 2 بلاک آفس کے باہر بھی احتجاج کیا۔

بتایا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے کام میں مصروف سات جوڈیشل افسران اس وقت بلاک آفس کے اندر تھے اور انہیں مظاہرین نے گھیر لیا تھا۔ یہ اہلکار شام 4 بجے سے رات 12 بجے تک اندر پھنسے رہے۔ بعد میں پولیس نے پہنچ کر انہیں بحفاظت نکال لیا۔

اس دوران، عدالتی افسران کو نکال کر لے جاتے وقت پولیس کی گاڑیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ایک گاڑی کے اندر ٹوٹے ہوئے شیشے بھی دیکھے گئے۔ وہیں ،مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے اہلکاروں کو بچاتے ہوئے لاٹھی چارج کیا۔ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ افسران کے قافلے میں شامل ایک گاڑی سے احتجاج کرنے والا ایک شخص زخمی ہوگیا ، جس کا علاج چل رہا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے نام درست دستاویزات ہونے کے باوجود ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ہیں۔ اس کے خلاف انہوں نے سڑکیں بلاک کرکے احتجاج کیا۔ پولیس نے جمعرات کی صبح ضلع کے بیشتر علاقوں میں سڑک جام اور احتجاج کو ختم کروایا۔ نیشنل ہائی وے 12 پر ٹریفک معمول پر آ گئی ہے۔ حساس علاقوں میں پولیس پکٹس تعینات کر دیے گئے ہیں اور مرکزی فورسز گشت کر رہی ہیں۔

تاہم مظاہرین نے ان کے نام ووٹر فہرستوں میں شامل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ احتجاج کا انتباہ دیا ہے۔ اس پس منظر میں الیکشن کمیشن نے پورے معاملے پر ریاستی پولیس سربراہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande