
پٹنہ، 18 اپریل (ہ س) ۔ بہار قانون ساز اسمبلی کا دوسرا اجلاس 24 اپریل 2026 کو طلب کیا گیا ہے۔ اسمبلی سکریٹریٹ نے اس سلسلے میں ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ اجلاس صرف ایک دن کے لیے ہوگا اور صبح 11 بجے اسمبلی احاطے میں ہوگا۔ یہ اجلاس سیاسی نقطہ نظر سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ نئی حکومت کو اس دن ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔
اسمبلی سکریٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ سمن میں تمام اراکین اسمبلی سے وقت پر ایوان میں حاضر ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کارروائی مقررہ وقت پر شروع ہوگی اور تمام اراکین کی موجودگی لازمی ہے۔
یہ خصوصی اجلاس نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق کئی اہم کاموں کو مکمل کرے گا۔ اس میں اسپیکر کا انتخاب، فلور ٹیسٹ اور دیگر ضروری طریقہ کار شامل ہیں۔ سمراٹ چودھری کے وزیر اعلی بننے کے بعد یہ پہلا اسمبلی اجلاس ہو گا جس میں وہ بطور وزیر اعلیٰ ایوان میں موجود ہوں گے۔ نائب وزیر اعلیٰ وجے چودھری اور وجیندر یادو بھی پہلی بار اس کردار میں نظر آئیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سمراٹ چودھری نے 15 اپریل کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا، جب کہ وجے چودھری اور وجیندر یادو کو نائب وزرائے اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔
آئین اور پارلیمانی روایت کے مطابق جب بھی کوئی نئی حکومت بنتی ہے یا وزیر اعلیٰ تبدیل ہوتے ہیں تو انہیں ایوان میں فلور ٹیسٹ کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ انہیں اراکین اسمبلی کی کافی حمایت حاصل ہے۔
243 رکنی بہار اسمبلی میں اکثریت کے لیے 122 ایم ایل اے کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ فی الحال نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو واضح اکثریت حاصل ہے، جس سے اس بات کا امکان نہیں ہے کہ سمراٹ چودھری حکومت کو اپنی اکثریت ثابت کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی 89، جنتا دل (متحدہ) 85، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) 19، ہندوستانی عوام مورچہ 5، راشٹریہ لوک مورچہ 4 ہے۔مجموعی طور پر این ڈی اے کو تقریباً 201-202 ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔
وہیں حزب اختلاف کے مہا گٹھ بندھن میں راشٹریہ جنتا دل کے 25، انڈین نیشنل کانگریس کے 6، سی پی آئی (ایم ایل) کے 2، سی پی آئی (مارکسسٹ) کے 1 اور انڈین انکلوسیو پارٹی کے 1 ارکان شامل ہیں۔
دیگر جماعتوں میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین 5اور 1 بہوجن سماج پارٹی شامل ہیں۔
اس تناظر میں ماہرین کا خیال ہے کہ بہار اسمبلی میں اپنی عددی طاقت کی بنیاد پر نئی این ڈی اے حکومت مضبوط پوزیشن میں ہے اور 24 اپریل کو ہونے والا فلور ٹیسٹ محض رسمی ہی ثابت ہو سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan