
حیدرآباد، 17 اپریل (ہ س)۔
تلنگانہ میں حکومت کے جامع سروے کی رپورٹ کو ڈائریکٹوریٹ برائے معاشیات و اقتصا د یات کے ذریعہ جاری کردیا گیا ہے۔ رپورٹ میں جامع سروے کی مکمل تفصیلات کوشامل کرتے ہوئے ریاست میں مذہب اورذات پات کی بنیاد پرآبادی اوران کے سماجی، معاشی، تعلیمی موقف کے علاوہ سیاسی موقف کے سلسلہ میں تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں آبادی کا تذ کرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاست میں مجموعی طورپر مسلمانوں کی آبادی 44 لاکھ 54 ہزارہے اورمسلمانوں کی آبادی کا تناسب 12.56 بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں جملہ 3 کروڑ 54 لاکھ 577 نفوس پرمشتمل آبادی ہے۔ رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ کے مختلف طبقات بالخصوص بی سی،ایس سی اورایس ٹی کے علاوہ اوبی سی اپنے معاشی وسماجی موقف کے علاوہ تعلیمی وسیاسی موقف کے متعلق جائزہ لینے کاعمل شروع کرچکے ہیں جبکہ رپورٹ میں کی گئی نشان دہی میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تلنگانہ میں ایس سی اور ایس ٹی طبقات کی حالت انتہائی ابترہے۔ رپورٹ میں مجموعی طور پرپسما ند گی کے جواعداد وشمارپیش کئے گئے ہیں ان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاست میں جملہ آبادی کا 67 فیصد حصہ مجموعی طورپرپسماندگی کا شکارہے اوراگرطبقہ کے اعتبارسے نشا ند ہی کی جائے توایسی صورت میں 99 فیصد قبائیلی یعنی ایس ٹی،97 فیصد دلت یعنی ایس سی اور71 فیصد بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والوں کومجموعی طورپر پسما ند گی کا شکار67 فیصد آبادی میں شامل رکھا گیا ہے۔اس رپورٹ میں قرض حاصل کرتے ہوئے زندگی گذ ارنے کے علاوہ گاڑیوں کے لئے قرض حاصل کرنے والوں کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں ۔ حکومت نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق ریاست میں بی سی (ای ) طبقہ میں شامل مسلم شیخ زمرہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی آبادی 27 لاکھ 95 ہزار727 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مسلم دھوبی جوکہ بی سی (ای) زمرہ میں شامل ہیں ان کی آبادی 1 لاکھ 26 ہزار438 ریکارڈ کی گئی ہے۔اس کے علاوہ تفصیلات میں بی سی (ای) زمرہ میں شامل طبقات حجام، فقیر،عطار، قریش کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ تلنگانہ میں مجموعی طور پر بی سی ای زمرہ میں قریش برادری سے تعلق رکھنے والوں کی آبادی 1 لاکھ 619 بتائی گئی ہے۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی بی سی(ای) زمرہ کے علاوہ آبادی کے متعلق رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تلنگانہ میں بی سی (ای) مسلمانوں کے علاوہ 6 لاکھ 32 ہزار782 مسلمان ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق