راہل گاندھی کے بیان پر لوک سبھا میں ہنگامہ، حکمراں پارٹی نے سخت اعتراض ظاہر کیا
نئی دہلی، 17 اپریل (ہ س)۔ لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ذریعہ وزیر اعظم کے لیے ایک لفظ کے استعمال پر حکمراں جماعت نے سخت اعتراض کیا، جس سے ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ر
LS-RAHUL-GANDHI-MAGICIAN-REMAR


نئی دہلی، 17 اپریل (ہ س)۔ لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ذریعہ وزیر اعظم کے لیے ایک لفظ کے استعمال پر حکمراں جماعت نے سخت اعتراض کیا، جس سے ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے راہل گاندھی کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ یہ نہ صرف وزیر اعظم بلکہ ملک کے عوام کی بھی توہین ہے۔

راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک کے عوام نے وزیر اعظم کو اس عہدے پر منتخب کیا ہے اور اس طرح کی زبان کا استعمال جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ کو ایوان کی کارروائی سے ہٹا دیا جائے اور انہیں ہم وطنوں سے معافی مانگنی چاہیے۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بھی اس معاملے پر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنا تمام اراکین کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو کچھ عوامی پلیٹ فارم پر کہا جاتا ہے ،اسے پارلیمنٹ میں دہرانا مناسب نہیں ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بھی راہل گاندھی کی زبان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف اس طرح کے تبصرے نامناسب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 140کروڑ لوگوں نے وزیراعظم کو منتخب کیا ہے اور اس طرح کی بیان بازی جمہوری روایات کے خلاف ہے۔

تنازعہ کے دوران راہل گاندھی نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض مسائل پر سچائی کو سامنے لانے کی ضرورت ہے اور حکومت ملک کی سیاست پر اثر انداز ہونے کے اقدامات کر رہی ہے۔

تاہم حکمراں جماعت نے ان کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان اور الزامات صرف سیاسی فائدے کے لیے لگائے جارہے ہیں جو ایوان کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande