
نئی دہلی، 17 اپریل (ہ س)۔ لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق تین بلوں پر بحث کے دوران سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی رکن ڈمپل یادو نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر ”خود کو بااختیار بنانے“ کا ایجنڈا چلا رہی ہے۔ یادو نے کہا کہ ایس پی خواتین کے ریزرویشن میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور اقلیتی خواتین کے لیے علیحدہ کوٹہ کے اپنے مطالبے پر قائم ہے۔
اتر پردیش کے مین پوری سے رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے ایوان کو یاد دلایا کہ جب 2023 میں ”ناری شکتی وندن ایکٹ“ پاس ہوا تھا تو پوری اپوزیشن نے متفقہ طور پر اس کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی برسوں میں مردم شماری کا عمل کیوں شروع نہیں کیا۔ اگر 2024 میں حکومت بنتے ہی مردم شماری شروع ہو جاتی تو آج ہم حد بندی کرنے کی پوزیشن میں ہوتے اور 2029 تک ریزرویشن نافذالعمل ہوجاتا،لیکن حکومت کا ارادہ خواتین کو ایوان میں لانا نہیں، بلکہ اس عمل کوایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ہے۔
ڈمپل نے کہا کہ سماج وادی پارٹی خواتین ریزرویشن کے اندر دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور اقلیتی خواتین کے لیے علیحدہ کوٹہ کے اپنے مطالبے پر قائم ہے۔ اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو کے دور اقتدار کی مثال دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے ساتھ ساتھ او بی سی اور عام زمرے کی خواتین کو پنچایتی راج میں منصفانہ نمائندگی دی گئی تھی۔
ایس پی ممبر نے حکومت پر پس وپیش پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ذات پات کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے بغیر حد بندی محض اقتدار کو بچانے کی ایک چال ہے۔ انہوں نے آسام میں الیکشن کمیشن کے ذریعے کی گئی حد بندی کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے اس عمل کی شفافیت پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے حکومت کی دیگر ناکامیوں خواتین کا تحفظ، نامکمل ”گارنٹیاں“، اگنیور ، شہادت اور اتر پردیش کی بدحالی جیسے مدعے ایوان کے سامنے رکھے۔
ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ حکومت صرف ”ماسک“ کے سہارے چل رہی ہے۔ عوام اب اس ”فریب کی سیاست“ کو دیکھ چکی ہے اور 2029 کے انتخابات میں اس کا جواب دیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک سماج کے ہر طبقے ، بالخصوص پسماندہ اور اقلیتی پس منظر کی خواتین کی شرکت کو یقینی نہیں بنایا جاتا ، تب تک یہ بل نامکمل ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد