امراوتی معاملہ: سرکاری جانچ میں محدود پیمانے پرمتاثرین کی نشاندہی، اقلیتی کمیشن اور پولیس کی رپورٹ، سوشل میڈیا کے دعوے مسترد
امراوتی، 17 اپریل (ہ س)۔ مبینہ جنسی استحصال کے کیس میں 17 اپریل کو امراوتی میں حکام نے جاری تحقیقات کی بنیاد پر واضح کیا ہے کہ اس معاملے کے بارے میں گردش کرنے والی بڑی تعداد کی اطلاعات درست نہیں ہیں اوراب تک سامنے آنے والی معلومات ایک محدود دائر
Crime Paratwada Viral Videos Case


امراوتی، 17 اپریل (ہ س)۔ مبینہ جنسی استحصال کے کیس میں 17 اپریل کو امراوتی میں حکام نے جاری تحقیقات کی بنیاد پر واضح کیا ہے کہ اس معاملے کے بارے میں گردش کرنے والی بڑی تعداد کی اطلاعات درست نہیں ہیں اوراب تک سامنے آنے والی معلومات ایک محدود دائرے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ریاستی اقلیتی کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق اس کیس میں مجموعی طور پر آٹھ متاثرین کی شناخت کی گئی ہے، جن میں دو نابالغ شامل ہیں، اور تمام متاثرین کا تعلق اقلیتی طبقے سے بتایا گیا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین پیارے خان نے کہا کہ دستیاب ڈیجیٹل مواد بھی محدود ہے اور بڑے پیمانے پر ویڈیوزیا تصاویر کے دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ چھ سے آٹھ ویڈیوزاورتقریباً ایک درجن تصاویر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 180 سے زائد متاثرین یا سینکڑوں ویڈیوز کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق بعض سیاسی شخصیات، جن میں نوینت کوررانا شامل ہیں، کی جانب سے اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور سماجی ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔پولیس کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ امراوتی (دیہی) کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وشال آنند نے کہا کہ ضبط شدہ آلات کی فارنزک جانچ میں بڑے پیمانے پر مواد کے پھیلاؤ کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور تحقیقات محدود متاثرین کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔اس کیس کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ کر رہی ہے، متاثرین کی مدد فراہم کر رہی ہے اور دیگر ممکنہ ملزمان کی شناخت پر کام کر رہی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات یا مواد شیئر کرنے سے گریز کریں تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں اور امن و امان برقرار رہے۔

حکام کے مطابق اس معاملے میں اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں مرکزی ملزم 19 سالہ ایان اے تنویر احمد شامل ہے۔یان اور دیگر گرفتار ملزمین کے خلاف بچوں کے تحفظ سے متعلق سخت قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مزید کارروائی کے تحت ان مقامات کو سیل کیا گیا ہے جہاں متاثرین کو مبینہ طور پر لایا جاتا تھا، جبکہ بعض غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جزوی انہدام بھی کیا گیا ہے۔یہ معاملہ ابتدا میں اچل پور اور پرتواڑا علاقوں سے متعلق بڑے پیمانے پر خبروں کے ساتھ سامنے آیا تھا، تاہم بعد میں حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ حکام نے کہا ہے کہ اس کیس میں اصل توجہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande